تفہیم القرآن جلد اول

۶۱-یہ اُن چالوں میں سے ایک چال تھی جو اطرافِ مدینہ کے رہنے والے یہودیوں کے لیڈر اور مذہبی پیشوا اسلام کی دعوت کو کمزور کرنے کے لیے چلتے رہتے تھے۔ اُنہوں نے مسلمانوں کو بد دل کرنے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عامّۂ خلائق کو بدگمان کر نے کے لیے خفیہ طور پر آدمیوں کو تیار کر کے بھیجنا شروع کیا تا کہ پہلے علانیہ اسلام قبول کریں، پھر مرتد ہو جائیں،  پھر جگہ جگہ لوگوں میں یہ مشہور کرتے پھریں کہ ہم نے اسلام میں اور مسلمانوں میں اور ان کے پیغمبر میں یہ اور یہ خرابیاں دیکھی ہیں تب ہی تو ہم ان سے الگ ہو گئے۔

۶۲-اصل میں لفظ ’’واسِع‘‘ استعمال ہوا ہے جو بالعموم قرآن میں تین مواقع پر آیا کرتا ہے۔ ایک وہ موقع جہاں انسانوں کے کسی گروہ کی تنگ خیالی و تنگ نظری کا ذکر آتا ہے اور اُسے اس حقیقت پر متنبہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ اللہ تمہاری طرح تنگ نظر نہیں ہے۔ دُوسرا وہ موقع جہاں کسی کے بُخل اور تنگ دلی اور کم حوصلگی پر ملامت کرتے ہوئے یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ فراخ دست ہے،  تمہاری طرح بخیل نہیں ہے۔ تیسرا وہ موقع جہاں لوگ اپنے تخیّل کی تنگی کے سبب سے اللہ کی طرف کسی قسم کی محدُودیّت منسُوب کرتے ہیں اور انھیں یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ غیر محدُود ہے۔(ملاحظہ ہو سُورۂ بقرہ، حاشیہ نمبر ۱۱۶)

۶۳-یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ کون فضل و شرف کا مستحق ہے۔