تفہیم القرآن جلد اول

۶۴-یہ محض یہودی عوام ہی کا جاہلانہ خیال نہ تھا،  بلکہ اُن کے ہاں کی مذہبی تعلیم بھی یہی کچھ تھی، اور ان کے بڑے بڑے مذہبی پیشوا ؤ ں کے فقہی احکام ایسے ہی تھے۔ بائیبل قرض اور سُود کے احکام میں اسرائیلی اور غیر اسرائیلی کے درمیان صاف تفریق کرتی ہے (استثناء ١۵:۳۔۲۳:۲۰)۔ تَلموُد میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیلی کا بیل کسی غیر اسرائیلی کے بیل کو زخمی کر دے تو اس پر کوئی تاوان نہیں، مگر غیر اسرائیلی کا بیل اگر اسرائیلی کے بیل کو زخمی کر ے تو اس پر تاوان ہے۔ اگر کسی شخص کو کسی جگہ کوئی گِری پڑی چیز ملے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ گردو پیش آبادی کن لوگوں کی ہے۔ اگر اسرائیلیوں کی ہو تو اسے اعلان کرنا چاہیے،  غیر اسرائیلیوں کی ہو تو اسے بلا اعلان وہ چیز رکھ لینی چاہیے۔ ربّی شموایل کہتا ہے کہ اگر اُمّی اور اسرائیلی کا مقدمہ قاضی کے پاس آئے تو قاضی اگر اسرائیلی قانون کے مطابق اپنے مذہبی بھائی کو جِتوا سکتا ہو تو اس کے مطابق جِتوائے اور کہے کہ یہ ہمارا قانون ہے۔ اور اگر اُمّیوں کے قانون کے تحت جِتوا سکتا ہو تو اُس کے تحت جِتوائے اور کہے کہ یہ تمہارا قانون ہے۔ اور اگر دونوں قانون ساتھ نہ دیتے ہوں تو پھر جس حیلے سے بھی وہ اسرائیلی کو کامیاب کر سکتا ہو کرے۔ ربّی شموایل کہتا ہے کہ غیر اسرائیلی کی ہر غلطی سے فائدہ اُٹھانا چاہیے (تالمودِک مِسّلینی، پال آئزک ہرشون، لندن ١۸۸۰ء،  صفحات ۳۷۔۲١۰۔۲۲١)۔

۶۵-سبب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے ایسے سخت اخلاقی جرائم کر نے کے بعد بھی اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے روز بس یہی اللہ کے مقرب بندے ہوں گے،  انہی کی طرف نظرِ  عنایت ہو گی، اور جو تھوڑا بہت گناہوں کا مَیل دنیا میں ان کو لگ گیا ہے وہ بھی بزرگوں کے صدقے میں ان پر سے دھو ڈالا جائے گا، حالانکہ دراصل وہاں ان کے ساتھ بالکل برعکس معاملہ ہو گا۔