۶۶-اس کا مطلب اگرچہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کتابِ الٰہی کے معانی میں تحریف کرتے ہیں، یا الفاظ کا اُلٹ پھیر کر کے کچھ سے کچھ مطلب نکالتے ہیں، لیکن اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ کتاب کو پڑھتے ہوئے کسی خاص لفظ یا فقرے کو، جو اُن کے مفاد یا اُن کے خود ساختہ عقائد و نظریات کے خلاف پڑتا ہو، زبان کی گردش سے کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں۔ اس کی نظیریں قرآن کو ماننے والے اہلِ کتاب میں بھی مفقود نہیں ہیں۔ مثلاً بعض لوگ جو نبی کی بشریّت کے منکر ہیں آیت قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌمِّثْلُکُمْ میں اِنَّمَا کو اِنَّ مَا پڑھتے ہیں اور اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ ’’اے نبی!کہہ دو کہ تحقیق نہیں ہوں میں بشر تم جیسا‘‘۔
۶۷-یہودیوں کے ہاں جو علماء مذہبی عہدہ دار ہوتے تھے اور جن کا کام مذہبی اُمُور میں لوگوں کی رہنمائی کرنا اور عبادات کے قیام اور احکامِ دین کا اجراء کرنا ہوتا تھا، ان کے لیے لفظ رَبَّانِی استعمال کیا جا تا تھا جیسا کہ خود قرآن میں ارشاد ہوا ہے لَوْ لَا یَنْھٰھُمُ الرَّبَّانِیُّوْنَ و َ الْاَ حْبَارُ عَنْ قَوْلِھِمُ الْاِثْمَ وَ اَکْلِھِمُ السُّحْت (ان کے ربّانی اور ان کے علماء ان کو گناہ کی باتیں کرنے اور حرام کے مال کھانے سے کیوں نہ روکتے تھے )۔ اسی طرح عیسائیوں کے ہاں لفظ ( Divine ) بھی ’’ربّانی‘‘ کا ہی ہم معنی ہے۔
۶۸-یہ اُن تمام غلط باتوں کی ایک جامع تردید ہے جو دُنیا کی مختلف قوموں نے خدا کی طرف سے آئے ہوئے پیغمبروں کی طرف منسُوب کر کے اپنی مذہبی کتابوں میں شامل کر دی ہیں اور جن کی رُو سے کوئی پیغمبر یا فرشتہ کسی نہ کسی طرح خدا اور معبُود قرار پاتا ہے۔ ان آیات میں یہ قاعدہ ٴ کلیہ بتایا گیا ہے کہ ایسی کوئی تعلیم جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی و پرستش سکھاتی ہو اور کسی بندے کو بندگی کی حد سے بڑھا کر خدائی کے مقام تک لے جاتی ہو، ہر گز کسی پیغمبر کی دی ہوئی تعلیم نہیں ہو سکتی۔ جہاں کسی مذہبی کتاب میں یہ چیز نظر آئے، سمجھ لو کہ یہ گمراہ کُن لوگوں کی تحریفات کا نتیجہ ہے۔
