۷۲-یعنی ہمارا طریقہ یہ نہیں ہے کہ کسی نبی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں، کسی کو جھُوٹا کہیں اور کسی کو سچّا۔ ہم تعصّب اور حمیّتِ جاہلیّہ سے پاک ہیں۔ دُنیا میں جہاں، جو اللہ کا بندہ بھی اللہ کی طرف سے حق لے کر آیا ہے، ہم اس کے بر حق ہونے پر شہادت دیتے ہیں۔
۷۳-یہاں پھر اُسی بات کا اعادہ کیا گیا ہے جو اس سے قبل بارہا بیان کی جا چکی ہے کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ادا ہو چکی تھی کہ آپ نبیِ برحق ہیں اور جو تعلیم آپ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء لا تے رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصّب، ضد اور دُشمنیِ حق کی اُس پُرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آرہے تھے۔
۷۴-یعنی صرف انکار ہی پر بس نہ کی بلکہ عملاً مخالفت و مزاحمت بھی کی، لوگوں کو خدا کے راستہ سے روکنے کی کوشش میں ایڑی چوٹی تک کا زور لگایا، شبہات پیدا کیے، بدگمانیاں پھیلائیں، دلوں میں وسوسے ڈالے، اور بدترین سازشیں اور ریشہ دوانیاں کیں تا کہ نبی کا مِشن کسی طرح کامیاب نہ ہونے پائے۔
