تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کر دو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو،۷۵ اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہو گا- کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعتِ محمدی ؐ میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں،۷۶ البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنھیں تورات کے نازل کیے جانے سے پہلے اسرائیل ۷۷ نے خود اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ ان سے کہو، اگر تم (اپنے اعتراض میں) سچّے ہو تو لاؤ تورات اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت۔۔۔۔ اس کے بعد بھی جو لوگ اپنی جھوٹی گھڑی ہوئی باتیں اللہ کی طرف منسوب کرتے رہیں وہی درحقیقت ظالم ہیں۔ کہو، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے، تم کو یکسُو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقہ کی پیروی کرنی چاہیے، اور ابراہیمؑ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا۔۷۸بے شک سب سے پہلی عبادت گا ہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکّہ میں واقع ہے۔ اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت بنایا گیا تھا۔ ۷۹ اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں،۸۰ ابراہیمؑ کا مقام عبادت ہے، اور اس کا حال یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوا مامون ۸۱ ہو گیا۔ لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کی پیر وی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جا نا چاہیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔ کہو، اے اہل کتاب! تم کیوں اللہ کی باتیں ماننے سے انکار کرتے ہو؟ جو حرکتیں تم کر رہے ہو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔کہو، اے اہل کتاب! یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے بھی تم اللہ کے راستہ سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے، حالانکہ تم خود (اس کے راہ راست ہونے پر ) گواہ ہو۔ تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم نے ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے۔ تمہارے لیے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع باقی ہے جب کہ تم کو اللہ کی آیا ت سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسول ؐ موجود ہے ؟ جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہِ راست پالے گا۔ ؏١۰
Page 182 of 213
Prev Next