تفہیم القرآن جلد اول

۸۵-یعنی اگر تم آنکھیں رکھتے ہو تو ان علامتوں کو دیکھ کر خُود اندازہ کر سکتے ہو کہ آیا تمہاری فلاح اِس دین کو مضبوط تھامنے میں ہے یا اِسے چھوڑ کر پھر اُسی حالت کی طرف پلٹ جانے میں جس کے اندر تم پہلے مبتلا تھے ؟ آیا تمہارا اصلی خیر خواہ اللہ اور اس کا رسُول ہے یا وہ یہودی اور مشرک اور منافق لوگ جو تم کو حالتِ سابقہ کی طرف پلٹا لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

۸۶-یہ اشارہ اُن اُمّتوں کی طرف ہے جنہوں نے خدا کے پیغمبروں سے دینِ حق کی صاف اور سیدھی تعلیمات پائیں مگر کچھ مُدّت گزر جانے کے بعد اساسِ دین کو چھوڑ دیا اور غیر متعلق ضِمنی و فروعی مسائل کی بنیاد پر الگ الگ فرقے بنانے شروع کر دیے،  پھر فضول و لایعنی باتوں پر جھگڑنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ نہ اُنہیں اُس کام کا ہوش رہا جو اللہ نے ان کے سپرد کیا تھا اور نہ عقیدہ و اخلاق کے اُن بنیادی اُصُولوں سے کوئی دلچسپی رہی جن پر در حقیقت انسان کی فلاح و سعادت کا مدار ہے۔

۸۷-یعنی چونکہ اللہ دُنیا والوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتا اس لیے وہ ان کو سیدھا راستہ بھی بتا رہا ہے اور اِس بات سے بھی انہیں قبل از وقت آگاہ کیے دیتا ہے کہ آخر کار وہ کن اُمور پر اُن سے باز پرس کرنے والا ہے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ کج روی اختیار کریں اور اپنے غلط طرزِ عمل سے باز نہ آئیں وہ اپنے اُوپر آپ ظلم کریں گے۔