اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔۸۸ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔۸۹ اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایمان دار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر افراد نافرمان ہیں۔ یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستا سکتے ہیں۔ اگر یہ تم سے لڑیں گے تو مقابلہ میں پیٹھ دکھا ئیں گے، پھر ایسے بے بس ہوں گے کہ کہیں سے ان کو مدد نہ ملے گی۔یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مار ہی پڑی، کہیں اللہ کے ذمّہ یا انسانوں کے ذمّہ میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے، ۹۰ یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں، ان پر محتاجی و مغلوبی مسلط کر دی گئی ہے، اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو نا حق قتل کیا۔ یہ ان کی نا فرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے۔ مگر سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں، اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سر گرم رہتے ہیں۔ یہ صالح لوگ ہیں اور جو نیکی بھی یہ کریں گے اس کی ناقدری نہ کی جائے گی، اللہ پرہیز گار لوگوں کو خوب جانتا ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا تو اللہ کے مقابلہ میں ان کو نہ ان کا مال کچھ کام دے گا نہ اولاد، وہ تو آگ میں جانے والے لوگ ہیں اور آگ ہی میں ہمیشہ رہیں گے۔ جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنھوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے۔۹۱ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا درحقیقت یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھا نے میں نہیں چُوکتے۔۹۲ تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے۔ ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں، اگر تم عقل رکھتے ہو (تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے )۔ تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم تمام کتبِ آسمانی کو مانتے ہو۔۹۳ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی (تمہارے رسول اور تمہاری کتاب کو ) مان لیا ہے، مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غیظ و غضب کا یہ حال ہو تا ہے کہ اپنی انگلیا ں چبانے لگتے ہیں۔۔۔۔ان سے کہہ دو کہ اپنے غصّہ میں آپ جل مرو، اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔۔۔۔تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے، اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں۔ مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس پر حاوی ہے۔ ؏١۲
Page 188 of 213
Prev Next