۹۵-یہ اشارہ ہے بنو سلمہ اور بنو حارثہ کی طرف جن کی ہمتیں عبداللہ بن اُبَی اور اس کے ساتھیوں کی واپسی کے بعد پست ہو گئی تھیں۔
۹۶-مسلمانوں نے جب یہ دیکھا کہ ایک طرف دشمن تین ہزار ہیں اور ہمارے ایک ہزار میں سے بھی تین سو الگ ہو گئے ہیں تو ان کے دل ٹوٹنے لگے۔ اُس وقت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اُن سے یہ الفاظ کہے تھے۔
۹۷-نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب زخمی ہوئے تو آپ کے مُنہ سے کفار کے حق میں بد دُعا نکل گئی اور آپ نے فرمایا کہ ’’ وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کو زخمی کرے ‘‘۔ یہ آیات اسی کے جواب میں ارشاد ہوئی ہیں۔
