تفہیم القرآن جلد اول

اے لوگو جو ایما ن لائے ہو،  یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو ۹۸ اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے۔ اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے مہیا کی گئی ہے  اور اللہ اور رسول کا حکم مان لو،  توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔ دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے،  اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے  جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کر تے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔۔۔۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔۔۔۔۹۹ اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جا تا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انھیں یاد آ جاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں۔۔۔۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کر سکتا ہو۔۔۔۔اور وہ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کی جزاء ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں انھیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ کیسا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کے لیے۔ تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں، زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنھوں نے (اللہ کے احکام و ہدایت کو ) جھٹلایا۔یہ لوگوں کے لیے ایک صاف اور صریح تنبیہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہو ں ان کے لیے ہدایت اور نصیحت۔ دل شکستہ نہ ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔۱۰۰ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کو ن ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی(راستی کے ) گواہ ہوں۔۔۔۔۱۰۱ کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں۔۔۔۔ اور وہ آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سر کوبی کر دینا چاہتا تھا۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں۔ تم تو موت کی تمنائیں کر رہے تھے ! مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی،  لو اب وہ تمہارے سامنے آ گئی اور تم نے اسے آنکھوں دیکھ لیا۔۱۰۲ ؏١۴