تفہیم القرآن جلد اول

محمد ؐ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں،  پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟۱۰۳ یا د رکھو! جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انھیں وہ اس کی جز ا دے گا۔ کوئی ذی رُوح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مر سکتا۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے۔۱۰۴ جو شخص ثواب دنیا کے ارادہ سے کام کر ے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے،  اور جو ثواب آخرت  ۱۰۵ کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں ۱۰۶ کو ہم ان کی جزا ضرور عطا کریں گے۔ اس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے،  انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی،  وہ (باطل کے آگے ) سرنگوں نہیں ہوئے۔۱۰۷ ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ ان کی دعا بس یہ تھی کہ ’’اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اسے معاف کر دے،  ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر‘‘ آخر کار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر ثوابِ آخرت بھی عطا کیا۔ اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں۔ ؏١۵