تفہیم القرآن جلد اول

۱۰۳-جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شہادت کی خبر مشہُور ہوئی تو اکثر صحابہ کی ہمتیں چھُوٹ گئیں۔ اس حالت میں منافقین نے (جو مسلمانوں کے ساتھ ہی لگے ہوئے تھے ) کہنا شروع کیا کہ چلو عبداللہ بن اُبَی کے پاس چلیں تاکہ وہ ہمارے لیے ابُوسُفیان سے امان لے دے۔ اور بعض نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر محمد ؐ خدا کے رسول ہوتے تو قتل کیسے ہوتے،  چلو اب دینِ آبائی کی طرف لوٹ چلیں۔ انہی باتوں کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر تمہاری ’’حق پرستی‘‘ محض محمد ؐ کی شخصیت سے وابستہ ہے اور تمہارا اسلام ایسا سُست بُنیاد ہے کہ محمد ؐ کے دُنیا سے رخصت ہوتے ہی تم اسی کفر کی طرف پلٹ جا ؤ گے جس سے نکل کر آئے تھے تو اللہ کے دین کو تمہاری ضرورت نہیں ہے۔

۱۰۴-اس سے یہ بات مسلمانوں کے ذہن نشین کرنا مقصُود ہے کہ موت کے خوف سے تمہارا بھاگنا فضُول ہے۔ کوئی شخص نہ تو اللہ کے مقرر کیے ہوئے وقت سے پہلے مر سکتا ہے اور نہ اس کے بعد جی سکتا ہے۔لہٰذا تم کو فکر موت سے بچنے کی نہیں بلکہ اس بات کی ہونی چاہیے کہ زندگی کی جو مُہلت بھی تمہیں حاصل ہے اس میں تمہاری سعی و جہد کا مقصُود کیا ہے،  دُنیا یا آخرت؟

۱۰۵-ثواب کے معنی ہیں نتیجۂ عمل۔ ثوابِ دنیا سے مراد وہ فوائد و منافع ہیں جو انسان کو اُس کی سعی اور عمل کے نتیجہ میں اِسی دنیا کی زندگی میں حاصل ہوں۔ اور ثوابِ آخرت سے مراد وہ فوائد و منافع ہیں جو اسی سعی و عمل کے نتیجہ میں آخرت کی پائیدار زندگی میں حاصل ہوں گے۔ اسلام کے نقطۂ نظر سے انسانی اخلاق کے معاملہ میں فیصلہ کُن سوال یہی ہے کہ کارزارِ حیات میں آدمی جو دوڑ دھوپ کر رہا ہے اس میں آیا وہ دُنیوی نتائج پر نگاہ رکھتا ہے یا اُخروی نتائج پر۔