۱۲۸-یہ یہودیوں کا قول تھا۔ قرآن مجید میں جب یہ آیت آئی کہ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْ ضًا حَسَنًا، ’’کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے ‘‘، تو اس کا مذاق اُڑاتے ہوئے یہُودیوں نے کہنا شروع کیا کہ جی ہاں، اللہ میاں مفلس ہو گئے ہیں، اب وہ بندوں سے قرض مانگ رہے ہیں۔
۱۲۹-بائیبل میں متعدّد مقامات پر یہ ذکر آیا ہے کہ خدا کے ہاں کسی قربانی کے مقبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ غیب سے ایک آگ نمودار ہو کر اسے بھسم کر دیتی تھی (قضاة ٦: ۲۰۔۲١ و ١۳: ١۹۔۲۰)۔ نیز یہ ذکر بھی بائیبل میں آتا ہے کہ بعض مواقع پر کوئی نبی سو ختنی قربانی کرتا تھا اور ایک غیبی آگ آ کر اسے کھا لیتی تھی(احبار۔۹ : ۲۴۔۲۔تواریخ۔۷ : ١۔۲)۔ لیکن یہ کسی جگہ بھی نہیں لکھا کہ اس طرح کی قربانی نبوّت کی کوئی ضروری علامت ہے، یا یہ کہ جس شخص کو یہ معجزہ نہ دیا گیا ہو وہ ہرگز نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ محض ایک من گھڑت بہانا تھا جو یہودیوں نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوّت کا انکار کرنے کے لیے تصنیف کر لیا تھا۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر ان کی حق دشمنی کا ثبوت یہ تھا کہ خود انبیائے بنی اسرائیل میں سے بعض نبی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے آتشیں قربانی کا یہ معجزہ پیش کیا اور پھر بھی یہ جرائم پیشہ لوگ ان کے قتل سے باز نہ رہے۔ مثال کے طور پر بائیبل میں حضرت الیاسؑ (ایلیاہ تِشبی) کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے بَعل کے پجاریوں کو چیلنج دیا کہ مجمعِ عام میں ایک بیل کی قربانی تم کرو اور ایک کی قربانی میں کرتا ہوں۔ جس کی قربانی کو غیبی آگ کھا لے وہی حق پر ہے۔ چنانچہ ایک خلقِ کثیر کے سامنے یہ مقابلہ ہوا اور غیبی آگ نے حضرت الیاسؑ کی قربانی کھائی۔ لیکن اس کا جو کچھ نتیجہ نکلا وہ یہ تھا کہ اسرائیل کے بادشاہ کی بعل پرست ملکہ حضرت الیاسؑ کی دشمن ہو گئی، اور وہ زن پرست بادشاہ اپنی ملکہ کی خاطر ان کے قتل کے درپے ہوا اور ان کو مجبوراً ملک سے نِکل کر جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی( ١۔سلاطین۔باب ١۸ و ١۹)۔ اسی بنا پر ارشاد ہوا ہے کہ حق کے دُشمنو! تم کس منہ سے آتشیں قربانی کا معجزہ مانگتے ہو ؟ جن پیغمبروں نے یہ معجزہ دکھایا تھا انہی کے قتل سے تم کب باز رہے۔
