۱۳۰-یعنی اس دُنیا کی زندگی میں جو نتائج رُو نما ہوتے ہیں انہی کو اگر کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ بیٹھے اور اُنہی پر حق و باطل اور فلاح و خُسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکہ میں مُبتلا ہو جائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی حق پر بھی ہے اور اسی کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اور اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مُبتلا ہونا بھی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردودِ بارگاہِ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اس ابتدائی مرحلہ کے نتائج اُن آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیاتِ ابدی کے مرحلہ میں پیش آنے والے ہیں۔ اور اصل اعتبار اُنہی نتائج کا ہے۔
۱۳۱-یعنی اُن کے طعن و تشنیع، اُن کے الزامات، اُن کے بیہُودہ طرزِ کلام اور اُن کی جھُوٹی نشر و اشاعت کے مقابلہ میں بے صبر ہو کر تم ایسی باتوں پر نہ اُتر آ ؤ جو صداقت و انصاف، وقار و تہذیب اور اخلاقِ فاضلہ کے خلاف ہوں۔
۱۳۲-یعنی انھیں یہ تو یاد رہ گیا کہ بعض پیغمبروں کو آگ میں جلنے والی قربانی بطور نشان کے دی گئی تھی، مگر یہ یاد نہ رہا کہ اللہ نے اپنی کتاب ان کے سپرد کرتے وقت ان سے کیا عہد لیا تھا اور کس خدمتِ عظمیٰ کی ذمّہ داری ان پر ڈالی تھی۔
یہاں جس عہد کا ذکر کیا گیا ہے اس کا ذکر جگہ جگہ بائیبل میں آتا ہے۔ خصُوصاً کتاب استثناء میں حضرت موسیٰؑ کی جو آخری تقریر نقل کی گئی ہے اس میں تو وہ بار بار بنی اسرائیل سے عہد لیتے ہیں کہ جو احکام میں نے تم کو پہنچائے ہیں اُنھیں اپنے دل پر نقش کر نا، اپنی آئندہ نسلوں کو سکھانا، گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے، ہر وقت ان کا چرچا کرنا، اپنے گھر کی چوکھٹوں پر اور اپنے پھاٹکوں پر ان کو لکھ دینا(٦:۴۔۹)۔ پھر اپنی آخری نصیحت میں اُنھوں نے تاکید کی کہ فلسطین کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرنا کہ کوہِ عیبال پر بڑے بڑے پتھر نصب کر کے توراة کے احکام ان پر کندہ کر دینا(۲۷:۲۔۴)۔ نیز بنی لاوِی کو توراة کا ایک نسخہ دے کر ہدایت فرمائی کہ ہر ساتویں برس عیدِ خیام کے موقع پر قوم کے مردوں، عورتوں، بچّوں سب کو جگہ جگہ جمع کر کے یہ پُوری کتاب لفظ بلفظ ان کو سُناتے رہنا۔ لیکن اس پر بھی کتاب اللہ سے بنی اسرائیل کی غفلت رفتہ رفتہ یہاں تک بڑھی کہ حضرت موسیٰؑ کے سات سو برس بعد ہیکل سلیمانی کے سجادہ نشین، اور یروشلم کے یہُودی فرماں روا تک کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے ہاں تورات نامی بھی کوئی کتاب موجود ہے۔(۲۔سلاطین۔۲۲ :۸۔١۳)۔
۱۳۳-مثلاً وہ اپنی تعریف میں یہ سننا چاہتے ہیں کہ حضرت بڑے متقی ہیں، دیندار اور پارسا ہیں، خادمِ دین ہیں، حامیِ شریعت ہیں، مُصلح و مزکّی ہیں، حالانکہ حضرت کچھ بھی نہیں ہیں۔ یا اپنے حق میں یہ ڈھنڈورا پٹوانا چاہتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے ایثار پیشہ اور مخلص اور دیانت دار رہنما ہیں اور انہوں نے ملّت کی بڑی خدمت کی ہے، حالانکہ معاملہ بالکل برعکس ہے۔
