رابعاً، اس سے پیروانِ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو سبق دینا مقصُود ہے کہ وہ اس انحطاط کے گڑھے میں گرنے سے بچیں جس میں پچھلے انبیا کے پیرو گر گئے۔ یہودیوں کی اخلاقی کمزوریوں، مذہبی غلط فہمیوں اور اعتقادی و عملی گمراہیوں میں سے ایک ایک کی نشان دہی کر کے اس کے بالمقابل دینِ حق کے مقتضیات بیان کیے گئے ہیں تاکہ مسلمان اپنا راستہ صاف دیکھ سکیں اور غلط راہوں سے بچ کر چلیں۔ اس سلسلے میں یہُود و نصاریٰ پر تنقید کرتے ہوئے قرآن جو کچھ کہتا ہے اس کو پڑھتے وقت مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وہ حدیث یاد رکھنی چاہیے جس میں آپ ؐ نے فرمایا ہے کہ تم بھی آخر کار پچھلی اُمتوں ہی کی روش پر چل رہو گے حتّیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بِل میں گھُسے ہیں، تو تم بھی اسی میں گھُسو گے۔ صحابہ ؓ نے پُوچھا: یا رسول اللہ، کیا یہُود و نصاریٰ مراد ہیں؟ آپ ؐ نے فرمایا، اور کون؟ نبی اکرم ؐ کا ارشاد محض ایک تَوبِیخ نہ تھا بلکہ اللہ کی دی ہوئی بصیرت سے آپ یہ جانتے تھے کہ انبیا کی اُمتوں میں بگاڑ کن کن راستوں سے آیا اور کن کن شکلوں میں ظہُور کرتا رہا ہے۔
۵۷-تھوڑی قیمت سے مُراد وہ دُنیوی فائدے ہیں جن کی خاطر یہ لوگ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو رد کر رہے تھے۔ حق فروشی کے معاوضے میں خواہ انسان دنیا بھر کی دولت لے لے، بہر حال وہ تھوڑی قیمت ہی ہے، کیونکہ حق یقیناً اس سے گراں تر چیز ہے۔
۵۸-اِس آیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اہلِ عرب بالعمُوم ناخواندہ لوگ تھے اور ان کے مقابلے میں یہودیوں کے اندر ویسے بھی تعلیم کا چرچا زیادہ تھا، اور انفرادی طور پر ان میں ایسے ایسے جلیل القدر عالم پائے جاتے تھے جن کی شہرت عرب کے باہر تک پہنچی ہوئی تھی۔ اس وجہ سے عربوں پر یہودیوں کا علمی رُعب بہت زیادہ تھا۔ پھر ان کے علما اور مشائخ نے اپنے مذہبی درباروں کی ظاہری شان جما کر اور اپنی جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کا کاروبار چلا کر اس رُعب کو اور بھی زیادہ گہرا اور وسیع کر دیا تھا۔ خصُوصیت کے ساتھ اہلِ مدینہ ان سے بے حد مرعوب تھے، کیونکہ ان کے آس پاس بڑے بڑے یہودی قبائل آباد تھے، رات دن کا ان سے میل جول تھا، اور اس میل جول میں وہ ان سے اُسی طرح شدت کے ساتھ متاثر تھے جس طرح ایک اَ ن پڑھ آبادی زیادہ تعلیم یافتہ، زیادہ متمدّن اور زیادہ نمایاں مذہبی تشخّص رکھنے والے ہمسایوں سے متاثر ہوا کرتی ہے۔ ان حالات میں جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے آپ کو نبی کی حیثیت سے پیش کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی، تو قدرتی بات تھی کہ اَ ن پڑھ عرب اہل ِ کتاب یہودیوں سے جا کر پُوچھتے کہ آپ لوگ بھی ایک نبی کے پیرو ہیں اور ایک کتاب کو مانتے ہیں، آپ ہمیں بتائیں کہ یہ صاحب جو ہمارے اندر نبوّت کا دعویٰ لے کر اُٹھے ہیں، اِن کے متعلق اور ان کی تعلیم کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ چنانچہ یہ سوال مکّے کے لوگوں نے بھی یہودیوں سے بارہا کیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینے تشریف لائے، تو یہاں بھی بکثرت لوگ یہُودی علما کے پاس جا جا کر یہی بات پُوچھتے تھے۔ مگر ان علما ء نے کبھی لوگوں کو صحیح بات نہ بتائی۔ ان کے لیے یہ کہنا تو مشکل تھا کہ وہ توحید، جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم پیش کر رہے ہیں غلط ہے، یا انبیاء اور کتب آسمانی اور ملائکہ اور آخرت کے بارے میں جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں، اس میں کوئی غلطی ہے، یا وہ اخلاقی اُصول، جن کی آپ تعلیم دے رہے ہیں، ان میں سے کوئی چیز غلط ہے۔ لیکن وہ صاف صاف اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہ تھے کہ جو کچھ آپ ؐ پیش کر رہے ہیں، وہ صحیح ہے۔ وہ نہ سچائی کی کھُلی کھُلی تردید کر سکتے تھے، نہ سیدھی طرح اس کو سچائی مان لینے پر آمادہ تھے۔ ان دونوں راستوں کے درمیان انہوں نے طریقہ یہ اختیار کیا تھا کہ ہر سائل کے دل میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف، آپ ؐ کی جماعت کے خلاف، اور آپ ؐ کے مشن کے خلاف کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیتے تھے، کوئی الزام آپ ؐ چسپاں کر دیتے تھے، کوئی ایسا شوشہ چھوڑ دیتے تھے جس سے لوگ شکوک و شبہات میں پڑ جائیں، اور طرح طرح کے اُلجھن میں ڈالنے والے سوالات چھیڑ دیتے تھے تاکہ لوگ ان میں خود بھی اُلجھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ ؐ کے پیرووں کو بھی اُلجھانے کی کوشش کریں۔ ان کا یہی رویّہ تھا، جس کی بنا پر ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ حق پر باطل کے پردے نہ ڈالو، اپنے جھوٹے پروپیگنڈے اور شریرانہ شبہات و اعتراضات سے حق کو دبانے اور چھُپانے کی کوشش نہ کرو، اور حق و باطل کو خلط ملط کر کے دُنیا کو دھوکا نہ دو۔
