۵۹-نماز اور زکوٰۃ ہر زمانے میں دین اسلام کے اہم ترین ارکان رہے ہیں۔ تمام انبیا کی طرح انبیائے بنی اسرائیل نے بھی اس کی سخت تاکید کی تھی۔ مگر یہودی ان سے غافل ہو چکے تھے۔ نماز با جماعت کا نظام ان کے ہاں تقریباً بالکل درہم برہم ہو چکا تھا۔ قوم کی اکثریت انفرادی نماز کی بھی تارک ہو چکی تھی، اور زکوٰۃ دینے کے بجائے یہ لوگ سُود کھانے لگے تھے۔
۶۰-یعنی اگر تمہیں نیکی کے راستے پر چلنے میں دُشواری محسُوس ہوتی ہے تو اس دُشواری کا علاج صبر اور نماز ہے، ان دو چیزوں سے تمہیں وہ طاقت ملے گی جس سے یہ راہ آسان ہو جائے گی۔
صَبر کے لُغوی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں اور اس سے مراد ارادے کی و ہ مضبُوطی، عَزْم کی وہ پختگی اور خواہشاتِ نفس کا وہ اِنضباط ہے، جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلے میں اپنے قلب و ضمیر کے پسند کیے ہوئے راستے پر لگاتار بڑھتا چلا جائے۔ ارشاد ِ الٰہی کا مدّ عا یہ ہے کہ اس اخلاقی صِفَت کو اپنے اندر پرورش کرو اور اس کو باہر سے طاقت پہنچانے کے لیے نماز کی پابندی کرو۔
۶۱-یعنی جو شخص خدا کا فرماں بردار نہ ہو اور آخرت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو، اس کے لیے تو نماز کی پابندی ایک ایسی مصیبت ہے، جسے وہ کبھی گوارا ہی نہیں کر سکتا۔ مگر جو برضا و رغبت خدا کے آگے سرِ اطاعت خم کر چکا ہو اور جسے یہ خیال ہو کہ کبھی مر کر اپنے خدا کے سامنے جانا بھی ہے، اس کے لیے نماز ادا کرنا نہیں، بلکہ نماز کا چھوڑنا مشکل ہے۔
