تفہیم القرآن جلد اول

لُطف یہ ہے کہ اسی کتاب میں آگے چل کر لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ  نے خدا سے عرض کیا کہ مجھے اپنا جلال دکھا دے،  تو اُس نے فرمایا کہ تُو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔( دیکھو خرُوج، باب ۳۳- آیت ۱۸-۲۳)

۷۲-یعنی جزیرہ نمائے سینا میں جہاں دھُوپ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ تمہیں میسّر نہ تھی، ہم نے ابر سے تمہارے بچا ؤ کا انتظام کیا۔ اس موقع پر خیال رہے کہ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکل کر آئے تھے اور سینا کے علاقے میں مکانات کا تو کیا ذکر، سر چھُپانے کے لیے ان کے پاس خیمے تک نہ تھے۔ اُس زمانے میں اگر خدا کی طرف سے ایک مدّت تک آسمان کو اَبر آلود نہ رکھا جاتا،  تو یہ قوم دھُوپ سے ہلاک ہو جاتی۔

۷۳-مَنّ و سَلْویٰ وہ قدرتی غذائیں تھیں، جو اس مہاجرت کے زمانے میں اُن لوگوں کو چالیس برس تک مسلسل ملتی رہیں۔ مَنّ دھنیے کے بیج جیسی ایک چیز تھی،  جو اوس کی طرح گِرتی اور زمین پر جم جاتی تھی۔ اور سَلْویٰ بٹیر کی قسم کے پرندے تھے۔ خدا کے فضل سے ان کی اتنی کثرت تھی کہ ایک پُوری کی پُوری قوم محض انہی غذا ؤ ں پر زندگی بسر کرتی رہی اور اسے فاقہ کشی کی مصیبت نہ اُٹھانی پڑی، حالانکہ آج کسی نہایت متمدّن ملک میں بھی اگر چند لاکھ مہاجر یکایک آ پڑیں، تو اُن کی خوراک کا انتظام مشکل ہو جاتا ہے۔ ( مَنّ اور سَلْویٰ کی تفصیلی کیفیّت کے لیے ملاحظہ ہو بائیبل،  کتاب خرُوج، باب ۱۶- گنتی، باب ۱۱، آیت ۷-۹، ۳۱-۳۲ و یشوع،  باب ۵- آیت ۱۲)

۷۴- یہ ابھی تک تحقیق نہیں ہو سکا ہے کہ اس بستی سے مُراد کونسی بستی ہے۔ جس سلسلۂ  واقعات میں یہ ذکر ہو رہا ہے وہ اس زمانے سے تعلق رکھتا ہے،  جبکہ بنی اسرائیل ابھی جزیرہ نمائے سینا ہی مین تھے۔ لہٰذا اغلب یہ ہے کہ اسی جزیرہ نما کا کوئی شہر ہو گا۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اِس مراد شِطَیم ہو، جو یَرِیْحُو کے بالمقابل دریائے اُرْدُن کے مشرقی کنارے پر آباد تھا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس شہر کو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ  کی زندگی کے اخیر زمانے میں فتح کیا اور وہاں بڑی بد کاریاں کیں جن کے نتیجے میں خدا نے ان پر وبا بھیجی اور ۲۴ ہزار آدمی ہلاک کر دیے۔ ( گنتی-باب ۲۵، آیت ۱-۸)

۷۵-یعنی حکم یہ تھا کہ جابر و ظالم فاتحوں کی طرح اَکڑتے ہوئے نہ گھُسنا، بلکہ خدا ترسوں کی طرح منکسرانہ شان سے داخل ہونا، جیسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم فتح مکّہ کے موقع پر مکّہ میں داخل ہوئے۔ اور حِطَّۃ ٌ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ خدا سے اپنی خطا ؤ ں کی معافی مانگتے ہوئے جانا، دوسرے یہ کہ لوٹ مار اور قتلِ عام کے بجائے بستی کے باشندوں میں درگذر اور عام معافی کا اعلان کرتے جانا۔

۷۶-وہ چٹان اب تک جزیرہ نمائے سینا میں موجود ہے۔ سیّاح اسے جا کر دیکھتے ہیں اور چشموں کے شگاف اس میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔ ۱۲ چشموں میں یہ مصلحت تھی کہ بنی اسرائیل کے قبیلے بھی ۱۲ ہی تھے۔ خدا نے ہر ایک قبیلے کے لیے الگ چشمہ نکال دیا تاکہ ان کے درمیان پانی جھگڑا نہ ہو۔

۷۷-یہ مطلب نہیں ہے کہ مَنّ و سلویٰ چھوڑ کر،  جو بے مشقّت مِل رہا ہے،  وہ چیزیں مانگ رہے ہو، جِن کے لیے کھیتی باڑی کرنی پڑے گی، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس بڑے مقصد کے لیے یہ صحرا نوردی تم سے کرائی جا رہی ہے،  اس کے مقابلے میں کیا تم کو کام و دہن کی لذّت اتنی مرغوب ہے کہ اُس مقصد کے چھوڑنے کے لیے تیار ہو اور ان چیزوں سے محرُومی کچھ مدّت کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتے ؟ (تقابل کے لیے ملاحظہ ہو گنتی، باب ۱۱، آیت ۹-۴)

۷۸-آیات سے کفر کرنے کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ خدا کی بھیجی ہوئی تعلیمات میں سے جو بات اپنے خیالات یا خواہشات کے خلاف پائی،  اس کو ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ دوسرے یہ کہ ایک بات کو یہ جانتے ہوئے کہ خدا نے فرمائی ہے،  پوری ڈھٹائی اور سرکشی کے ساتھ اس کی خلاف ورزی کی اور حکم ِ الٰہی کی کچھ پروا نہ کی۔ تیسرے یہ کہ ارشادِ الٰہی کے مطلب و مفہُوم کو اچھی طرح جاننے اور سمجھنے کے باوجود اپنی خواہش کے مطابق اسے بدل ڈالا۔