مگر اس پر بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا کہ شاید اب تم شکر گزار بنو۔ یاد کرو (ٹھیک اُس وقت جب تم یہ ظلم کر رہے تھے ) ہم نے موسیٰؑ کو کتاب اور فرقان ۶۹ عطا کی تاکہ تم اس کے ذریعے سے سیدھا راستہ پاسکو۔ یاد کرو جب موسیٰؑ (یہ نعمت لیے ہوئے پلٹا، تو اُس ) نے اپنی قوم سے کہا کہ ’’لوگو، تم نے بچھڑے کو معبُود بنا کر اپنے اُوپر سخت ظلم کیا ہے، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو ۷۰، اسی میں تمہارے خالِق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے۔‘‘ اُس وقت تمہارے خالِق نے تمہاری توبہ قبول کر لی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور رحم فرمانے والا ہے۔ یاد کرو جب تم نے موسیٰؑ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، جب تک کہ اپنی آنکھوں سے علانیہ خدا کو (تم سے کلام کرتے ) نہ دیکھ لیں۔اس وقت تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک زبردست صاعقے نے تم کو آ لیا۔ تم بے جان ہو کر گر چکے تھے، مگر پھر ہم نے تم کو جِلا اُٹھایا، شاید کہ اس احسان کے بعد تم شکر گزار بن جاؤ ۷۱۔ ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا ۷۲، من و سلویٰ کی غذا تمہارے لیے فراہم کی ۷۳ اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں، اُنھیں کھاؤ، مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا، وہ ہم پر ظلم نہ تھا، بلکہ انہوں نے آپ اپنے ہی اُوپر ظلم کیا۔ پھر یاد کرو جب ہم نے کہا تھا کہ ’’یہ بستی ۷۴ جو تمہارے سامنے ہے اس میں داخل ہو جاؤ اس کی پیداوار جس طرح چاہو مزے سے کھاؤ مگر بستی کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہونا اور کہتے جانا حِطَّةٌ، ۷۵ ہم تمہاری خطاؤں سے درگزر کریں گے اور نیکو کاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے۔‘‘ مگر جو بات کہی گئی تھی، ظالموں نے اُسے بدل کر کچھ اور کر دیا۔آخر کار ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا۔یہ سزا تھی اُن نافرمانیوں کی،جو وہ کر رہے تھے۔ یاد کرو، جب موسیٰؑ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا کہ فلاں چٹان پر اپنا عصا مارو۔چنانچہ اُس سے بارہ چشمے پھوٹ ۷۶ نکلے اور ہر قبیلے نے جان لیا کہ کون سی جگہ اُس کے پانی لینے کی ہے۔اُس وقت یہ ہدایت کر دی گئی تھی کہ اللہ کا دیا ہُوا رزق کھاؤ پیو،اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔یاد کرو، جب تم نے کہا تھا کہ ’’اے موسیٰؑ، ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کر سکتے۔ اپنے ربّ سے دُعا کرو کہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار ساگ،ترکاری،گیہوں،لہسن،پیاز،دال وغیرہ پیدا کریں۔‘‘ تو موسیٰؑ نے کہا ’’کیا ایک بہتر چیز کے بجائے تم ادنیٰ درجے کی چیزیں لینا چاہتے ہو؟اچھا ۷۷، کسی شہری آبادی میں جا رہو جو کچھ تم مانگتے ہو وہاں مل جائے گا۔‘‘ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلّت و خواری اور پستی و بدحالی اُن پر مسلط ہو گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھِر گئے۔ یہ نتیجہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیات ۷۸ سے کفر کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے۔۷۹ یہ نتیجہ تھا اُن کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ وہ حدودِ شرع سے نکل نکل جاتے تھے۔ ؏۷
۶۹-فُرقَان: وہ چیز جس کے ذریعہ سے حق اور باطل کا فرق نمایاں ہو۔ اُردو میں اس کے مفہُوم سے قریب تر لفظ’’کَسوَٹی‘‘ ہے۔ یہاں فرقان سے مُراد دین کا وہ علم اور فہم ہے، جس سے آدمی حق اور باطل میں تمیز کرتا ہے۔
۷۰-یعنی اپنے اُن آدمیوں کو قتل کرو جنہوں نے گوسالے کو معبُود بنایا اور اس کی پرستش کی۔
۷۱-یہ اشارہ جس واقعہ کی طرف ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ چالیس شبانہ روز کی قرار داد پر جب حضرت موسیٰؑ طُور پر تشریف لے گئے تھے، تو آپؑ کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستّر نمائندے بھی لے کر آئیں۔ پھر جب اللہ تعالی ٰ نے موسیٰؑ کو کتاب اور فُرقان عطا کی، تو آپ نے اسے ان نمائندوں کے سامنے پیش کیا۔ اس موقع پر قرآن کہتا ہے کہ ان میں سے بعض شریر کہنے لگے کہ ہم محض تمہارے بیان پر کیسے مان لیں کہ خدا تم سے ہم کلام ہوا ہے۔ اس پر اللہ تعالی ٰ کا غضب نازل ہوا اور اُنہیں سزا دی گئی۔ لیکن بائیبل کہتی ہے کہ :
’’انہوں نے اسرائیل کے خدا کو دیکھا۔ اس کے پا ؤ ں کے نیچے نیلم کے پتھر کا چبُوترا تھا، جو آسمان کی مانند شفاف تھا۔
اور اس نے بنی اسرائیل کے شُرفا پر اپنا ہاتھ نہ بڑھایا۔ سو انہوں نے خدا کو دیکھا اور کھایا اور پیا۔‘‘(خرُوج، باب ۲۴۔ آیت ۱۰-۱۱)
