یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، لوگوں سے بھلی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا، مگر تھوڑے آدمیوں کے سوا تم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھرے ہوئے ہو۔ پھر ذرا یا د کرو، ہم نے تم سے مضبُوط عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دُوسرے کا خون نہ بہانہ اور نہ ایک دُوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا۔ تم نے اس کا اقرار کیا تھا، تم خود اس پر گواہ ہو۔ مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کر دیتے ہو، ظلم و زیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو، اور جب وہ لڑائی میں پِٹے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں، تو ان کی رہائی کے لیے فدیہ کالیں دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا، تو کیا تم کتاب کے ایک حصّے پر ایمان لاتے ہو اور دُوسرے حصّے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟۹۲ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں ؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے آخرت بیچ کر دُنیا کی زندگی خرید لی ہے، لہٰذا نہ اِن کی سزا میں کوئی تخفیف ہو گی اور نہ انہیں کو ئی مدد پہنچ سکے گی۔ ؏١۰