تفہیم القرآن جلد اول

۹۲-نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد سے پہلے مدینے کے اطراف کے یہودی قبائل نے اپنے ہمسایہ عرب قبیلوں (اَوْس اور خَزْرَج) سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ جب ایک عرب قبیلہ دُوسرے قبیلے سے برسرِ جنگ ہوتا، تو دونوں کے حلیف یہُودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور ایک دُوسرے کے مقابلے میں نبرد آزما ہو جاتے تھے۔ یہ فعل صریح طور پر کتاب اللہ کے خلاف تھا اور وہ جانتے بُوجھتے کتاب اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ مگر لڑائی کے بعد جب ایک یہُودی قبیلے کے اسیرانِ جنگ دُوسرے یہُودی قبیلے کے ہاتھ آتے تھے،  تو غالب قبیلہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑتا اور مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر انہیں چھُڑاتا تھا، اور اس فدیے کے لیے دین کو جائز ٹھہرانے کے لیے کتاب اللہ سے استدلال کیا جاتا تھا۔ گویا وہ کتاب اللہ کی اِس اجازت کو تو سر آنکھوں پر رکھتے تھے کہ اسیرانِ جنگ کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے،  مگر اس حکم کو ٹھکرا دیتے تھے کہ آپس میں جنگ ہی نہ کی جائے۔

ہم نے موسیٰؑ  کو کتاب دی، اس کے بعد پے در پے رسُول بھیجے،  آخر کار عیسیٰ ابنِ مر یم کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور رُوحِ پاک سے اس کی مدد کی۔۹۳ پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسُول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا، تو تم نے اس کے مقابلے میں سر کشی ہی کی، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا! وُہ کہتے ہیں، تمہارے دل محفوظ ہیں۔نہیں ۹۴،  اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے،  اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے،  اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی، باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے،  مگر جب وہ چیز آ گئی جسے وہ پہچان بھی گئے،  تو انھوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔۹۵ خدا کی لعنت ان منکرین پر، کیسا بُرا ذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے ہیں  ۹۶ کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے،  اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل ( وحی و رسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا، نواز دیا!۹۷ لہٰذا اب یہ غضب با لائے غضب کے مستحق ہو گئے ہیں اور ایسے کافروں کیلئے سخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ، تو وہ کہتے ہیں ’’ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لاتے ہیں،  جو ہمارے ہاں (یعنی نسل ِ اسرائیل میں ) اُتری ہے۔‘‘اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے،  اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق و تائید کر رہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی۔ اچھا،ان سے کہو : اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی، تو اس سے پہلے اللہ کے ان پیغمبروں کو (جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے ) کیوں قتل کرتے رہے ؟ تمہارے پاس موسیٰؑ  کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آیا۔پھر بھی تم ایسے ظالم تھے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبُود بنا بیٹھے۔ پھر ذرا اُس میثاق کو یاد کرو، جو طور کو تمھارے اُوپر اٹھا کر ہم نے تم سے لیا تھا۔ ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں، ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو۔ تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سُن لیا، مگر مانیں گے نہیں۔ اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا۔ کہو : اگر تم مومن ہو،  تو یہ عجیب ایمان ہے،  جو ایسی بُری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے۔ اِن سے کہو اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصُوص ہے، تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنّا کرو ۹۸، اگر تم اس خیال میں سچے ّ ہو تو یقین جانو کہ یہ کبھی اس کی تمنّا نہ کریں گے،  اس لیے کہ اپنے ہاتھوں جو کچھ کما کر انھوں نے وہاں بھیجا ہے، اس کا اقتضا یہی ہے (کہ وہاں جانے کی تمنّا نہ کریں) اللہ ان ظالموں کے حال سے خوب واقف ہے۔ تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص ۹۹ پاؤ گے حتّیٰ کہ یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیے،  حالانکہ لمبی عمر بہر حال اُسے عذاب سے تو دُور نہیں پھینک سکتی۔ جیسے کچھ اعمال یہ کر رہے ہیں، اللہ تو انہیں دیکھ ہی رہا ہے۔ ؏١١