تفہیم القرآن جلد اول

۹۸-یہ ایک تعریض اور نہایت لطیف تعریض ہے اُن کی دُنیا پرستی پر۔ جن لوگوں کو واقعی دارِ آخرت سے کوئی لگا ؤ ہوتا ہے،  وہ دُنیا پر مَرے نہیں جاتے اور نہ موت سے ڈرتے ہیں۔ مگر یہُودیوں کا حال اس کے برعکس تھا اور ہے۔

۹۹-اصل میں عَلیٰ حَیٰوۃٍ کا لفظ ارشاد ہوا ہے،  جس کے معنی ہیں کسی نہ کسی طرح کی زندگی۔ یعنی انہیں محض زندگی کی حرص ہے،  خواہ وہ کسی طرح کی زندگی ہو، عزّت اور شرافت کی ہو یا ذلّت اور کمینہ پن کی۔

ان سے کہو کہ جو کوئی جبریل سے عداوت رکھتا ہو ۱۰۰، اسے معلوم ہو نا چاہیے کہ جبریل نے اللہ ہی کے اذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے ۱۰۱، جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے ۱۰۲ اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے۔۱۰۳

۱۰۰-یہُودی صرف نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اور آپ پر ایمان لانے والوں ہی کو بُرا نہ کہتے تھے، بلکہ خدا کے برگزیدہ فرشتے جبریل کو بھی گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ رحمت کا نہیں، عذاب کا فرشتہ ہے۔

۱۰۱-یعنی اس بنا پر تمہاری گالیاں جبریل پر نہیں بلکہ خداوندِ برتر کی ذات پر پڑتی ہیں۔

۱۰۲-مطلب یہ ہے کہ یہ گالیاں تم اسی لیے تو دیتے ہو کہ جبریل یہ قرآن لے کر آیا ہے اور حال یہ ہے کہ یہ قرآن سراسر تورات کی تائید میں ہے۔ لہٰذا تمہاری گالیوں میں تورات بھی حصّے دار ہوئی۔

۱۰۳-اِ س میں لطیف اشارہ ہے اس مضمون کی طرف کہ نادانو، اصل میں تمہاری ساری ناراضی ہدایت اور راہِ راست کے خلاف ہے۔ تم لڑ رہے ہو اُس صحیح رہنمائی کے خلاف،  جسے اگر سیدھی طرح مان لو، تو تمہارے ہی لیے کامیابی کی بشارت ہو۔

(اگر جبریل سے ان کی عداوت کا سبب یہی ہے،  تو کہہ دو کہ) جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کے دشمن ہیں،  اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔ ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں۔ اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں۔ کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور ہی بالائے طاق رکھ دیا؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہی ہیں جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے۔ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کو ئی رسول اس کتاب کی تصدیق و تائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجو د تھی،  تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پسِ  پشت ڈالا،  گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں۔ اور لگے ان چیزوں کی پیروی کرنے،  جو شیاطین سلیمانؑ  کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے ۱۰۴، حالانکہ سلیمانؑ  نے کبھی کفر نہیں کیا،  کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگو ں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے۔ اور پیچھے پڑے اس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں،  ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی،  حالانکہ وہ (فرشتے ) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے،  تو پہلے صاف طور پر متنبہّ کر دیا کرتے تھے کہ ’’دیکھ،  ہم محض ایک آزمائش ہیں،  تُو کفر میں مبتلا نہ ہو  ۱۰۵ ‘‘ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جُدائی ڈال دیں ۱۰۶۔ ظاہر تھا کہ اذنِ  الٰہی کہ بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے،  مگر اس کے با وجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں،  بلکہ نقصان دہ تھی اور انھیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا،  اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ کتنی بُری متاع تھی جس کے بدلہ انھوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش انھیں معلوم ہو تا اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا،  وہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا کاش انہیں کو ئی خبر ہوتی۔ ؏ ١۲