۱۰۴-شیاطین سے مراد شیاطینِ جِنّ اور شیاطینِ اِنس دونوں ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ جب بنی اسرائیل پر اخلاقی و مادّی انحطاط کا دَور آیا اور غلامی، جہالت، نَکبَت و اِفلاس اور ذِلَّت و پستی نے ان کے اندر کوئی بلند حوصلگی و اُولوا العزمی نہ چھوڑی، تو ان کی توجہّات جادُو ٹونے اور طلسمات و ’’عملیات‘‘ اور تعویذ گنڈوں کی طرف مبذول ہونے لگیں۔وہ تو ایسی تدبیریں ڈھونڈنے لگے، جن سے کسی مشَقّت اور جدّوجہد کے بغیر محض پھُونکوں اور منتروں کے زور پر سارے کام بن جایا کریں۔ اس وقت شیاطین نے ان کو بہکانا شروع کیا کہ سلیمانؑ کی عظیم الشان سلطنت اور ان کی حیرت انگیز طاقتیں تو سب کچھ چند نقوش اور منتروں کا نتیجہ تھیں، اور وہ ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر اِن چیزوں پر ٹوٹ پڑے اور پھر نہ کتاب اللہ سے ان کو کوئی دلچسپی رہی اور نہ کسی داعی حق کی آواز انہوں نے سُن کر دی۔
۱۰۵-اس آیت کی تاویل میں مختلف اقوال ہیں، مگر جو کچھ میں نے سمجھا ہے ہو یہ ہے کہ جس زمانے میں بنی اسرائیل کی پُوری قوم بابل میں قیدی اور غلام بنی ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو انسانی شکل میں ان کی آزمائش کے لیے بھیجا ہو گا۔ جس طرح قومِ لُوط کے پاس فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں گئے تھے، اسی طرح ان اسرائیلیوں کے پاس وہ پیروں اور فقیروں کی شکل میں گئے ہوں گے۔ وہاں ایک طرف انہوں نے بازارِ ساحری میں اپنی دکان لگائی ہو گی اور دُوسری طرف وہ اتمامِ حُجَّت کے لیے ہر ایک کو خبردار بھی کر دیتے ہوں گے کہ دیکھو، ہم تمہارے لیے آزمائش کی حیثیت رکھتے ہیں، تم اپنی عاقبت خراب نہ کرو۔ مگر اس کے باوجود لوگ ان کے پیش کردہ عملیات اور نقوش اور تعویذات پر ٹوٹے پڑتے ہوں گے۔
فرشتوں کے انسانی شکل میں آ کر کام کرنے پر کسی کو حیرت نہ ہو۔ وہ سلطنتِ الٰہی کے کار پرداز ہیں۔ اپنے فرائضِ منصبی کے سلسلے میں جس وقت جو صُورت اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ اسے اختیار کر سکتے ہیں۔ ہمیں کیا خبر کہ اس وقت بھی ہمارے گرد و پیش کتنے فرشتے انسانی شکل میں آ کر کام کر جاتے ہوں گے۔ رہا فرشتوں کا ایک ایسی چیز سِکھانا جو بجائے خود بُری تھی، تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے پولیس کے بے وردی سپاہی کسی رشوت خور حاکم کو نشان زدہ سِکّے اور نوٹ لے جا کر رشوت کے طور پر دیتے ہیں تاکہ اسے عین حالتِ ارتکابِ جُرم میں پکڑیں اور اس کے لیے بے گناہی کے عذر کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں۔
