۱۱۷-اُن کا مطلب یہ تھا کہ خدا، یا تو خود ہمارے سامنے آ کر کہے کہ یہ میری کتاب ہے اور یہ میرے احکام ہیں، تم لوگ ان کی پیروی کرو، یا پھر ہمیں کوئی ایسی نشانی دکھائی جائے، جس سے ہمیں یقین آ جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہے۔
۱۱۸-یعنی آج کے گمراہوں نے کو ئی اعتراض اور کوئی مطالبہ ایسا نہیں گھڑا ہے، جو ان سے پہلے کے گمراہ پیش نہ کر چکے ہوں۔ قدیم زمانے سے آج تک گمراہی کا ایک ہی مزاج ہے اور وہ بار بار ایک ہی قسم کے شبہات اور اعتراضات اور سوالات دُہراتی رہتی ہے۔
۱۱۹-یہ بات کہ خدا خود آ کر ہم سے بات کیوں نہیں کرتا، اس قدر مہمل تھی کہ اس کا جواب دینے کی حاجت نہ تھی۔ جواب صرف اس بات کا دیا گیا ہے کہ ہمیں نشانی کیوں نہیں دکھائی جاتی۔ اور جواب یہ ہے کہ نشانیاں تو بے شمار موجود ہیں، مگر جو جاننا چاہتا ہی نہ ہو، اسے آخر کونسی نشانی دکھائی جا سکتی ہے۔
۱۲۰-یعنی دُوسری نشانیوں کا کیا ذکر، نمایاں ترین نشانی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی اپنی شخصیّت ہے۔ آپ ؐ کے نبوّت سے پہلے کے حالات، اور اُس قوم اور ملک کے حالات جس میں آپ ؐ پیدا ہوئے، اور وہ حالات جن میں آپ نے پرورش پائی اور ۴۰ برس زندگی بسر کی، اور پھر وہ عظیم الشان کارنامہ جو نبی ؐ ہونے کے بعد آپ نے انجام دیا، یہ سب کچھ ایک ایسی روشن نشانی ہے جس کے بعد کسی اور نشانی کی حاجت نہیں رہتی۔
(اس سے بڑھ کر نشانی کیا ہو گی کہ ) ہم نے تم کو علمِ حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔۱۲۰ اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں، ان کی طرف سے تم ذمہ دار و جواب دہ نہیں ہو۔ یہودی اور عیسائی تم سے ہر گز راضی نہ ہو نگے، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ ۱۲۱ صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ ورنہ اگر اس علم کے بعد جو تمہارے پس آ چکا ہے، تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے۔
۱۲۱-مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناراضی کا سبب یہ تو ہے نہیں کہ وہ سچے طالبِ حق ہیں اور تم نے ان کے سامنے حق کو واضح کر نے میں کچھ کمی کی ہے۔ وہ تو اس لیے تم سے ناراض ہیں کہ تم نے اللہ کی آیات اور اس کے دین کے ساتھ وہ منافقانہ اور بازی گرانہ طرزِ عمل کیوں اختیار نہ کیا، خدا پرستی کے پردے میں وہ خود پرستی کیوں نہ کی، دین کے اُصُول و احکام کو اپنے تخیلات یا اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے میں اُس دیدہ دلیری سے کیوں نہ کام لیا، وہ ریاکاری اور گندم نمائی و جو فروشی کیوں نہ کی، جو خود ان کا اپنا شیوہ ہے۔ لہٰذا انھیں راضی کرنے کی فکر چھوڑ دو، کیونکہ جب تک تم ان کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کر لو، دین کے ساتھ وہی معاملہ نہ کرنے لگو، جو خود یہ کرتے ہیں، اور عقائد و اعمال کی اُنہیں گمراہیوں میں مُبتلا نہ ہو جاؤ، جن میں یہ مبتلا ہیں، اُس وقت تک ان کا تم سے راضی ہونا محال ہے۔
۱۲۲-یہ اہلِ کتاب کے صالح عنصر کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ دیانت اور راستی کے ساتھ خدا کی کتاب کو پڑھتے ہیں۔ اس لیے جو کچھ کتاب اللہ کی رُو سے حق ہے، اُسے حق مان لیتے ہیں۔
