تفہیم القرآن جلد اول

۱۲۳ اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری وہ نعمت، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا، اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا کی تمام قوموں پر فضیلت دی تھی۔ اور ڈرو اس دن سے،  جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کوئی سفارش ہی آدمی کو فائدہ دے گی، اور نہ مجرموں کو کہیں سے کوئی مدد پہنچ سکے گی۔ یاد کرو کہ جب ابراہیمؑ  کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا ۱۲۴ اور وہ اُن سب میں پورا اتر گیا، تو اس نے کہا : ’’میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں‘‘۔ ابراہیمؑ  نے عرض کیا : ’’اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے ‘‘؟ اس نے جواب دیا:’’میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے ‘‘۱۲۵۔ اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے ) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہو تا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنا لو، اور ابراہیمؑ  اور اسماعیلؑ  کو تاکید کی تھی کہ میرے اس گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع اورسجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔۱۲۶ اور یہ کہ ابراہیمؑ  نے دعا کی : ’’اے میرے رب،  اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندو ں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں،  انھیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے۔‘‘ جو اب میں اس کے رب نے فرمایا ’’اور جو نہ مانے گا،  دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوں گا، ۱۲۷ مگر آخر کار اسے عذابِ جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے۔ ‘‘ اور یا د کرو ابراہیمؑ  اور اسماعیلؑ  جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے،  تو دعا کرتے جاتے تھے،  ’’اے ہمارے رب،  ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے،  تُو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مطیع فرمان) بنا،  ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو،  ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا،  اور ہماری کوتاہیو ں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔اور اے رب،  ان لوگوں میں خود انھیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو،  جو انھیں تیری آیات سنائے،  ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے ۱۲۸۔ تُو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔‘‘ ۱۲۹ ؏١۵
 

۱۲۳-یہاں سے ایک دُوسرا سلسلہ ء تقریر شروع ہو تا ہے،  جسے سمجھنے کے لیے حسبِ ذیل اُمور کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے :

(۱)حضرت نوحؑ  کے بعد حضرت ابراہیمؑ  پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی عالمگیر دعوت پھیلانے کے لیے مقرر کیا تھا۔ انہوں نے پہلے خود عراق سے مصر تک اور شام و فلسطین سے ریگستانِ عرب کے مختلف گوشوں تک برسوں گشت لگا کر اللہ کی اطاعت و فرماں برداری (یعنی اسلام) کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔ پھر اپنے اس مِشن کی اشاعت کے لیے مختلف علاقوں میں خلیفہ مقرر کیے۔ شرق اُردن میں اپنے بھتیجے حضرت لُوطؑ  کو،  شام و فلسطین میں اپنے بیٹے اسحاقؑ  کو، اور اندرُونِ عرب میں اپنے بڑے بیٹے حضرت اسمٰعیلؑ  کو مامور کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکّے میں وہ گھر تعمیر کیا،  جس کا نام کعبہ ہے اور اللہ ہی کے حکم سے وہ ا س مِشن کا مرکز قرار پایا۔