تفہیم القرآن جلد اول

نادان لوگ ضرور کہیں گے :اِنہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے تھے،  اس سے یکایک پھر گئے ؟۱۴۲ اے نبیؐ،  ان سے کہو: ’’مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے، سیدھی راہ دکھاتا ہے۔۱۴۳ اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ’’اُمّتِ وَسَط ‘‘بنایا ہے تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسُول تم پر گواہ ہو۔۱۴۴ پہلے جس طرف تم رُخ کرتے تھے،  اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کو ن اُلٹا پھر جاتا ہے۔۱۴۵ یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت،  مگر اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا،  جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے،  اللہ تمہارے اس ایمان کو ہر گز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے۔ یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجدِ حرام کی طرف رُخ پھیر دو۔ اب جہاں کہیں تم ہو،  اُسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو۔۱۴۶ یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی،  خُوب جانتے ہیں کہ(تحویلِ قبلہ کا ) یہ حکم ان کے ربّ ہی کی طرف سے ہے اور بر حق ہے،  مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں،اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔تم ان اہلِ کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ،  ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دُوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں، اور اگر تم نے اس علم کے بعد،  جو تمہارے پاس آ چکا ہے،  ان کی خواہشات کی پیروی کی،  تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہو گا۔۱۴۷جِن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے،  وہ اس مقام کو(جسے قبلہ بنایا گیا ہے ) ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،۱۴۸ مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے۔ یہ قطعی  ایک امرِ حق ہے تمہارے ربّ کی طرف سے،  لہٰذا اس کے متعلق تم ہر گز کسی شک میں نہ پڑو۔ ؏١۷

۱۴۲-نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہجرت کے بعد مدینۂ  طیّبہ میں سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المَقْدِس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ پھر کعبے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم آیا، جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔

۱۴۳-یہ ان نادانوں کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ اُن کے دماغ تنگ تھے،  نظر محدُود تھی، سمت اور مقام کے بندے بنے ہوئے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ خدا کسی خاص سمت میں مُقَیّد ہے۔ اس لیے سب سے پہلے ان کے جاہلانہ اعتراض کی تردید میں یہی فرمایا گیا کہ مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ کسی سمت کو قبلہ بنانے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ اسی طرف ہے۔ جِن لوگوں کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے،  وہ اس قسم کی تنگ نظریوں سے بالاتر ہوتے ہیں اور ان کے لیے عالمگیر حقیقتوں کے ادراک کی راہ کھُل جاتی ہے۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر ۱۱۵، نمبر ۱۱۶)

۱۴۴-یہ اُمّتِ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی امامت کا اعلان ہے۔ ’’اسی طرح‘‘ کا اشارہ دونوں طرف ہے : اللہ کی اُس رہنمائی کی طرف بھی، جس سے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی قبول کرنے والوں کو سیدھی راہ معلوم ہوئی اور وہ ترقی کرتے کرتے اِس مرتبے پر پہنچے کہ ’’ اُمّتِ وَسَط‘‘ قرار دیے گئے،  اور تحویلِ قبلہ کی طرف بھی کہ نادان اسے محض ایک سَمْت سے دُوسری سَمْت کی طرف پھرنا سمجھ رہے ہیں، حالانکہ دراصل بیت المقدس سے کعبے کی طرف سَمْت قبلہ کا پھرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو دُنیا کی پیشوائی کے منصب سے باضابطہ معزُول کیا اور اُمّتِ محمدیہ کو اس پر فائز کر دیا۔