۱۳۷-اس آیت کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ ’’ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کر لیا‘‘، دوسرے یہ کہ ’’اللہ کا رنگ اختیار کرو‘‘۔ مسیحیّت کے ظہُور سے پہلے یہُودیوں کے ہاں یہ رسم تھی کہ جو شخص اُن کے مذہب میں داخل ہوتا، اُسے غُسل دیتے تھے اور اِس غُسل کے معنی ان کے ہاں یہ تھے کہ گویا اس کے گناہ دھُل گئے اور اس نے زندگی کا ایک نیا رنگ اختیار کر لیا۔ یہی چیز بعد میں مسیحیوں نے اختیار کر لی۔ اس کا اصطلاحی نام ان کے ہاں اِصطباغ (بپتسمہ) ہے اور یہ اصطباغ نہ صرف اُن لوگوں کو دیا جاتا ہے جو اُن کے مذہب میں داخل ہوتے ہیں، بلکہ بچّوں کو بھی دیا جاتا ہے۔ اسی کے متعلق قرآن کہتا ہے، اس رسمی اصطباغ میں کیا رکھا ہے ؟ اللہ کا رنگ اختیار کرو، جو کسی پانی سے نہیں چڑھتا، بلکہ اس کی بندگی کا طریقہ اختیار کرنے سے چڑھتا ہے۔
۱۳۸-’’یعنی ہم یہی تو کہتے ہیں کہ اللہ ہی ہم سب کا ربّ ہے اور اسی کی فرمانبرداری ہونی چاہیے۔ کیا یہ بھی کوئی ایسی بات ہے کہ اس پر تم ہم سے جھگڑا کرو؟ جھگڑے کا اگر کوئی موقع ہے بھی، تو وہ ہمارے لیے ہے، نہ کہ تمہارے لیے، کیونکہ اللہ کے سوا دُوسروں کو بندگی کا مستحق تم ٹھیرا رہے ہو نہ کہ ہم‘‘۔
’’اَ تُحَآ جُّوْنَنَا فِی اللہِ‘‘ کا ایک ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’کیا تمہارا جھگڑا ہمارے ساتھ فِیْ سَبِیْلِ اللہ ہے ‘‘؟ اِس صُورت میں مطلب یہ ہو گا کہ اگر واقعی تمہارا یہ جھگڑا نفسانی نہیں ہے، بلکہ خدا واسطے کا ہے، تو یہ بڑی آسانی سے طے ہو سکتا ہے۔
۱۳۹-یعنی تم اپنے اعمال کے ذمّے دار ہو اور ہم اپنے اعمال کے۔ تم نے اگر اپنی زندگی کو تقسیم کر رکھا ہے اور اللہ کے ساتھ دُوسروں کو بھی خدائی میں شریک ٹھیرا کر ان کی پرستش اور اطاعت بجا لاتے ہو، تو تمہیں ایسا کرنے کا اختیار ہے، اس کا انجام خود دیکھ لو گے۔ ہم تمہیں زبردستی اس سے روکنا نہیں چاہتے۔ لیکن ہم نے اپنی بندگی، اطاعت اور پرستش کو بالکل اللہ ہی کے لیے خالص کر دیا ہے۔ اگر تم تسلیم کر لو کہ ہمیں بھی ایسا کرنے کا اختیار ہے، تو خواہ مخواہ کا یہ جھگڑا آپ ہی ختم ہو جائے۔
۱۴۰-یہ خطاب یہُود و نصاریٰ کے اُن جاہل عوام سے ہے جو واقعی اپنے نزدیک یہ سمجھتے تھے کہ یہ جلیل القدر انبیا سب کے سب یہودی یا عیسائی تھے۔
۱۴۱-یہ خطاب اُن کے علما سے ہے، جو خود بھی اس حقیقت سے ناواقف نہ تھے کہ یہودیت اور عیسائیت اپنی موجودہ خصوصیّات کے ساتھ بہت بعد میں پیدا ہوئی ہیں، مگر اس کے باوجود وہ حق کے اپنے ہی فرقوں میں محدُود سمجھتے تھے اور عوام کو اسی غلط فہمی میں مبتلا رکھتے تھے کہ انبیا کے مدّتوں بعد جو عقیدے، جو طریقے اور جو اجتہادی ضابطے اور قاعدے ان کے فقہا، صوفیہ اور متکلّمین نے وضع کیے، انہیں کی پیروی پر انسان کی فلاح اور نجات کا مدار ہے۔ ان علما سے جب پوچھا جاتا تھا کہ اگر یہی بات ہے، تو حضرت ابراہیمؑ ، اسحاقؑ ، یعقوبؑ وغیرہ انبیا علیہم السّلام آخر تمہارے اِن فرقوں میں سے کس سے تعلق رکھتے تھے، تو وہ اس کا جواب دینے سے گریز کرتے تھے، کیونکہ ان کا علم انہیں یہ کہنے کی تو اجازت نہ دیتا تھا کہ ان بزرگوں کا تعلق ہمارے ہی فرقے سے تھا۔ لیکن اگر وہ صاف الفاظ میں یہ مان لیتے کہ یہ انبیا نہ یہُودی تھے، نہ عیسائی، تو پھر ان کی حجّت ہی ختم ہو جاتی تھی۔
