۵-یعنی اُس دن کا مالک جبکہ تمام اگلی پچھلی نسلوں کو جمع کر کے ان کے کارنامۂ زندگی کا حساب لیا جائے گا اور ہر انسان کو اس کے عمل کا پورا صِلہ مل جائے گا۔ اللہ کی تعریف میں رحمان اور رحیم کہنے کے بعد مالک روزِ جزا کہنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ نِرا مہربان ہی نہیں ہے بلکہ منصف بھی ہے، اور منصف بھی ایسا با اختیار منصف کہ آخری فیصلے کے روز وہی پورے اقتدار کا مالک ہو گا، نہ اس کی سزا میں کوئی مزاحم ہو سکے گا اور نہ جزا میں مانع۔ لہٰذا ہم اس کی ربوبیت اور رحمت کی بناء پر اس سے محبت ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے انصاف کی بنا پراس سے ڈرتے بھی ہیں اور یہ احساس بھی رکھتے ہیں کہ ہمارے انجام کی بھلائی اور بُرائی بالکُلّیہ اُسی کے اختیار میں ہے۔
۶-عبادت کا لفظ بھی عربی زبان میں تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (١) پوجا اور پرستش (۲) اطاعت اور فرمانبرداری (۳) بندگی اور غلامی۔ اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں۔یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں، مطیع فرمان بھی اور بندہ و غلام بھی۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ہم تیرے ساتھ یہ تعلق رکھتے ہیں۔بلکہ واقعی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلق صرف تیرے ہی ساتھ ہے۔ان تینوں معنوں میں سے کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا ہمارا معبود نہیں ہے۔
۷-یعنی تیرے ساتھ ہمارا تعلق محض عبادت ہی کا نہیں ہے بلکہ استعانت کا تعلق بھی ہم تیرے ہی ساتھ رکھتے ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ ساری کائنات کا ربّ تو ہی ہے، اور ساری طاقتیں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، اور ساری نعمتوں کا تو ہی اکیلا مالک ہے، اس لیے ہم اپنی حاجتوں کی طلب میں تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں، تیرے ہی آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے اور تیری مدد پر ہمارا اعتماد ہے۔ اسی بنا پر ہم اپنی درخواست لے کر تیری خدمت میں حاضر ہو رہے ہیں۔
۸-یعنی زندگی کے ہر شعبہ میں خیال اور عمل اور برتاؤ کا وہ طریقہ ہمیں بتا جو بالکل صحیح ہو، جس میں غلط بینی اور غلط کاری اور بدنامی کا خطرہ نہ ہو، جس پر چل کہ ہم سچی فلاح و سعادت حاصل کر سکیں ——– یہ ہے وہ درخواست جو قرآن شروع کرتے ہوئے بندہ اپنے خدا کے حضور پیش کرتا ہے۔اس کی گزارش یہ ہے کہ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں اور ہمیں بتائیں کہ قیاسی فلسفوں کی اس بھول بھلیاں میں حقیقتِ نفس الامری کیا ہے، اخلاق کے ان مختلف نظریات میں صحیح نظامِ اخلاق کونسا ہے، زندگی کی اِن بے شمار پگڈنڈیوں کے درمیان فکر و عمل کی سیدھی اور صاف شاہراہ کونسی ہے۔
۹-یہ اُس سیدھے راستہ کی تعریف ہے جس کا علم ہم اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں۔یعنی وہ راستہ جس پر ہمیشہ سے تیرے منظورِ نظر لوگ چلتے رہے ہیں۔ وہ بے خطا راستہ کہ قدیم ترین زمانہ سے آج تک جو شخص اور جو گروہ بھی اس پر چلا وہ تیرے انعامات کا مستحق ہوا اور تیری نعمتوں سے مالامال ہو کر رہا۔
۱۰-یعنی ’’انعام‘‘ پانے والوں سے ہماری مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر عارضی طور پر تیری دُنیوی نعمتوں سے سرفراز تو ہوتے ہیں مگر دراصل وہ تیرے غضب کے مستحق ہوا کرتے ہیں اور اپنی و سعادت کی راہ گم کیے ہوئے ہوتے ہیں۔اس سلبی تشریح سے یہ بات خود کھل جاتی ہے کہ ’’انعام‘‘ سے ہماری مراد حقیقی اور پائدار انعامات ہیں جو راست روی اور خدا کی خوشنودی کے نتیجے میں ملا کرتے ہیں، نہ کہ وہ عارضی اور نمائشی انعامات جو پہلے بھی فرعونوں اور نمرودوں اور قارونوں کو ملتے رہے ہیں اور آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے ظالموں اور بدکاروں اور گمراہوں کو ملے ہوئے ہیں۔
