۲۔البقرہ
نام اور وجہ تسمیہ
اس سورت کا نام “بقرہ” اس لیے ہے کہ اس میں ایک جگہ گائے کا ذکر آیا ہے۔ قرآن مجید کی ہر سورت میں اس قدر وسیع مضامین بیان ہوئے ہیں کہ ان کے لئے مضمون کے لحاظ سے جامع عنوانات تجویز نہیں کئے جا سکتے۔ عربی زبان اگرچہ لغت کے اعتبار سے نہایت مالدار ہے مگر بہرحال ہے تو انسانی زبان ہی۔ انسان جو زبانیں بولتا ہے وہ اس قدر تنگ اور محدود ہیں کہ وہ ایسے الفاظ یا فقرے فراہم نہیں کر سکتیں جو ان وسیع مضامین کے لئے جامع عنوان بن سکتے ہوں۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے قرآن کی بیشتر سورتوں کے لیے عنوانات کے بجائے نام تجویز فرمائے جو محض علامت کا کام دیتے ہیں۔ اس سورت کو بقرہ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں گائے کے مسئلے پر بحث کی گئی ہے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ “وہ سورت جس میں گائے کا ذکر آیا ہے “۔
زمانۂ نزول
اس سورت کا بیشتر حصہ ہجرت مدینہ کے بعد مدنی زندگی کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوا ہے اور کمتر حصہ ایسا ہے جو بعد میں نازل ہوا اور مناسبت مضمون کے لحاظ سے اس میں شامل کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ سود کی ممانعت کے سلسلے میں جو آیات نازل ہوئی ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں حالانکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کے بالکل آخری زمانے میں اتری تھیں۔ سورت کا خاتمہ جن آیات پر ہوا ہے وہ ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہو چکی تھیں مگر مضمون کی مناسبت سے ان کو بھی اس سورت میں ضم کر دیا گیا۔
