تفہیم القرآن جلد اول

۱۵۳ اے لوگو جو ایمان لائے ہو صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔۱۵۴ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں،  انہیں مُردہ نہ کہو،  ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں،  مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا ۱۵۵۔ اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر،  فاقہ کشی،  جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے،  تو کہیں کہ ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جا نا ہے ۱۵۶،‘‘ انھیں خوشخبری دے دو۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں۔یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، ۱۵۷ اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کر لے ۱۵۸ اور جو برضا و رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا اللہ کو اس کا علم ہے اور وہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔۱۵۹ جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں در آں حال یہ کہ ہم انھیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں،  یقین جانو کہ اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔۱۶۰ البتہ جو اس روش سے باز آ جائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے بیان کرنے لگیں،  ان کو میں معاف کر دوں گا اور میں بڑا در گزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔جن لوگوں نے کفر کا رویہ ۱۶۱ اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے،  نہ ان کی سزا میں تخفیف ہو گی اور نہ انھیں پھر کوئی دوسری مہلت دی جائے گی۔تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اس رحمٰن اور رحیم کے سوا کوئی اور خدا نہیں۔ ؏١۹

۱۵۳-منصب امامت پر مامور کرنے کے بعد اب اس اُمّت کو ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔ مگر تمام دُوسری باتوں سے پہلے انہیں جس پات پر متنبہ کیا جا رہا ہے،  وہ یہ ہے کہ یہ کوئی پھُولوں کا بستر نہیں ہے،  جس پر آپ حضرات لِٹائے جا رہے ہوں۔ یہ تو ایک عظیم الشّان اور پُر خطر خدمت ہے،  جس کا بار اُٹھانے کے ساتھ ہی تم پر ہر قسم کے مصائب کی بارش ہو گی، سخت آزمائشوں میں ڈالے جا ؤ گے،  طرح طرح کے نقصانات اُٹھانے پڑیں گے۔ اور جب صبر و ثبات اور عزم و استقلال کے ساتھ ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے خدا کی راہ میں بڑھے چلے جا ؤ گے،  تب تم پر عنایات کی بارش ہو گی۔