تفہیم القرآن جلد اول

۱۵۴-یعنی اِس بھاری خدمت کا بوجھ اُٹھانے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہے،  وہ تمہیں دو چیزوں سے حاصل ہو گی۔ ایک یہ کہ صبر کی صفت اپنے اندر پرورش کرو۔ دُوسرے یہ کہ نماز کے عمل سے اپنے آپ کو مضبُوط کرو۔ آگے چل کر مختلف مقامات پر اس امر کی تشریحات ملیں گی کہ صبر بہت سے اہم ترین اخلاقی اوصاف کے لیے جامع عنوان ہے۔ اور حقیقت میں یہ وہ کلیدِ  کامیابی ہے،  جس کے بغیر کوئی شخص کسی مقصد میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح آگے چل کر نماز کے متعلق بھی تفصیل سے معلوم ہو گا کہ وہ کِس کِس طرح افرادِ مومنین اور جماعتِ مومنین کو اس کارِ عظیم کے لیے تیار کرتی ہے۔

۱۵۵-موت کا لفظ اور اس کا تصوّر انسان کے ذہن پر ایک ہمّت شکن اثر ڈالتا ہے۔ اس لیے اس بات سے منع کیا گیا کہ شُہداء فی سبیل اللہ کو مُردہ کہا جائے،  کیونکہ اس سے جماعت کے لوگوں میں جذبۂ  جہاد و قتال اور رُوحِ جاں فروشی کے سرد پڑ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس کے بجائے ہدایت کی گئی کہ اہلِ ایمان اپنے ذہن میں یہ تصوّر جمائے رکھیں کہ جو شخص خدا کی راہ میں جان دیتا ہے،  وہ حقیقت میں حیاتِ جاوداں پاتا ہے۔ یہ تصوّر مطابقِ واقعہ بھی ہے اور اس سے رُوحِ شجاعت بھی تازہ ہوتی اور تازہ رہتی ہے۔

۱۵۶-کہنے سے مُراد صرف زبان سے یہ الفاظ کہنا نہیں ہے،  بلکہ دل سے اس بات کا قائل ہونا ہے کہ ’’ہم اللہ ہی کے ہیں‘‘، اس لیے اللہ کی راہ میں ہماری جو چیز بھی قربان ہوئی، وہ گویا ٹھیک اپنے مَصْرَف میں صرف ہوئی، جس کی چیز تھی اسی کے کام آ گئی۔ اور یہ کہ’’ اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹنا ہے ‘‘، یعنی بہرحال ہمیشہ اس دُنیا میں رہنا نہیں ہے۔ آخر کار، دیر یا سویر،  جانا خدا ہی کے پاس ہے۔ لہٰذا کیوں نہ اس کی راہ میں جان لڑا کر اس کے حضُور حاضر ہوں۔ یہ اس سے لاکھ درجہ بہتر ہے کہ ہم اپنے نفس کی پرورش میں لگے رہیں اور اسی حالت میں،  اپنی موت ہی کے وقت پر کسی بیماری یا حادثے کے شکار ہو جائیں۔

۱۵۷-ذُولحجّہ کی مقرر تاریخوں میں کعبے کی جو زیارت کی جاتی ہے،  اس کا نام حج ہے اور ان تاریخوں کے ماسوا دُوسرے کسی زمانے میں جو زیارت کی جائے،  وہ عُمْرَہ ہے۔