تفہیم القرآن جلد اول

۱۷۱-اس کا اطلاق اُس جانور کے گوشت پر بھی ہوتا ہے جسے خدا کے سوا کسی اَور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور اُس کھانے پر بھی ہوتا ہے جو اللہ کے سوا کِسی اَور کے نام پر بطور نذر کے پکایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جانور ہو یا غلّہ یا اور کوئی کھانے کی چیز،  دراصل اس کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اللہ ہی نے وہ چیز ہم کو عطا کی ہے۔ لہٰذا اعترافِ نعمت صدقہ و نذر و نیاز کے طور پر اگر کسی کا نام ان چیزوں پر لیا جا سکتا ہے تو وہ صرف اللہ ہی کا نام ہے۔ اس کے سوا کسی دُوسرے کا نام لینا یہ معنی رکھتا ہے کہ ہم خدا کے بجائے یا خدا کے ساتھ اس کی بالاتری بھی تسلیم کر رہے ہیں اور اس کو بھی مُنعِم سمجھتے ہیں۔

۱۷۲-اس آیت میں حرام چیز کے استعمال کرنے کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ دی گئی ہے۔ ایک یہ کہ واقعی مجبُوری کی حالت ہو۔ مثلاً بھُوک یا پیاس سے جان پر بن گئی ہو، یا بیماری کی وجہ سے جان کا خطرہ ہو اور اس حالت میں حرام چیز کے سوا اور کوئی چیز میسّر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ خدا کے قانون کو توڑنے کی خواہش دل میں موجود نہ ہو۔ تیسرے یہ کہ ضرورت کی حد سے تجاوز نہ کیا جائے،  مثلاً حرام چیز کے چند لقمے یا چند قطرے یا چند گھونٹ اگر جان پچا سکتے ہوں تو ان سے زیادہ اس چیز کا استعمال نہ ہونے پائے۔

۱۷۳-مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں میں یہ جتنے غلط توہّمات پھیلے ہیں اور باطل رسموں اور بے جا پابندیوں کی جو نئی نئی شریعتیں بن گئی ہیں ان سب کی ذمّہ داری ان علما پر ہے جن کے پاس کتابِ الٰہی کا علم تھا مگر انہوں نے عامۂ  خلائق تک اس علم کو نہ پہنچایا۔ پھر جب لوگوں میں جہالت کی وجہ سے غلط طریقے رواج پانے لگے تو اس وقت بھی وہ ظالم منہ میں گھُنگنیاں ڈالے بیٹھے رہے۔ بلکہ ان میں سے بہتوں نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا کہ کتاب اللہ کے احکام پر پردہ ہی پڑا رہے۔

۱۷۴-یہ دراصل ان پیشوا ؤ ں کے جھُوٹے دعووں کی تردید اور ان غلط فہمیوں کا رد ہے جو اُنہوں نے عام لوگوں میں اپنے متعلق پھیلا رکھی ہیں۔ وہ ہر ممکن طریقے سے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، اور لوگ بھی ان کے متعلق ایسا ہی گمان رکھتے ہیں کہ ان کی ہستیاں بڑی پاکیزہ اور مقدس ہیں اور جو اُن کا دامن گرفتہ ہو جائے گا اس کی سفارش کر کے وہ اللہ کے ہاں اُسے بخشوا لیں گے۔ جواب میں اللہ فرماتا ہے ک ہ ہم انھیں ہر گز منہ نہ لگائیں گے اور نہ انھیں پاکیزہ قرار دیں گے۔