تفہیم القرآن جلد اول

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، ۱۷۵ بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یومِ آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر،  مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے،  نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں، اور تنگدستی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص ۱۷۶ کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے،  غلام قاتل ہو تو غلام ہی قتل کیا جائے، اور عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو اس عورت ہی سے قصاص ۱۷۷ لیا جائے۔ ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو،۱۷۸ تو معروف طریقے ۱۷۹ کے مطابق خوں بہا کا تصفیہ ہو نا چاہیے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس پر بھی جو زیادتی کرے، ۱۸۰ اس کے لیے درد ناک سزا ہے ـ عقل و خرد رکھنے والو!تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔۱۸۱ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے۔تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو، تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔۱۸۲پھر جنھوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا، تو اس کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہو گا۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نا دانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے،  اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے،  تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے،  اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ؏۲۲
 

۱۷۵-مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے کو تو محض بطور تمثیل بیان کیا گیا ہے،  دراصل مقصُود یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ مذہب کی چند ظاہری رسموں کو ادا کر دینا اور صرف ضابطے کی خانہ پُری کے طور پر چند مقرر مذہبی اعمال انجام دینا اور تقویٰ کی چند معروف شکلوں کا مظاہرہ کر دینا وہ حقیقی نیکی نہیں ہے،  جو اللہ کے ہاں وزن اور قدر رکھتی ہے۔

۱۷۶-قِصَاص، یعنی خُون کا بدلہ،  یہ کہ آدمی کے ساتھ وہی کیا جائے،  جو اُس نے دُوسرے آدمی کے ساتھ کیا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قاتل نے جس طریقے سے مقتول کو قتل کیا ہو، اُسی طریقے سے اس کو قتل کیا جائے،  بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ جان لینے کا جو فعل اُس نے مقتول کے ساتھ کیا ہے وہی اُس کے ساتھ کیا جائے۔