تفہیم القرآن جلد اول

۲۰۰-یعنی جو لوگ خدا کے کام میں تمہارا راستہ روکتے ہیں، اور اس بنا پر تمہارے دُشمن بن گئے ہیں کہ تم خدا کی ہدایت کے مطابق نظامِ زندگی کی اصلاح کرنا چاہتے ہو، اور اس اصلاحی کام کی مزاحمت میں جبر و ظلم کی طاقتیں استعمال کر رہے ہیں، ان سے جنگ کرو۔ اس سے پہلے جب تک مسلمان کمزور اور منتشر تھے،  ان کو صرف تبلیغ کا حکم تھا اور مخالفین کے ظلم و ستم پر صبر کرنے کی ہدایت کی جاتی تھی۔ اب مدینے میں ان کی چھوٹی سی شہری ریاست بن جانے کے بعد پہلی مرتبہ حکم دیا جا رہا ہے کہ جو لوگ اس دعوتِ اصلاح کی راہ میں مسلح مزاحمت کرتے ہیں، ان کو تلوار کا جواب تلوار سے دو۔ اس کے بعد ہی جنگِ  بدر پیش آئی اور لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

۲۰۱-یعنی تمہاری جنگ نہ تو اپنی اغراض کے لیے ہو، نہ اُن لوگوں پر ہاتھ اُٹھا ؤ،  جو دینِ حق کی راہ میں مزاحمت نہیں کرتے،  اور نہ لڑائی میں جاہلیّت کے طریقے استعمال کرو۔ عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں اور زخمیوں پر دست درازی کرنا، دشمن کے مقتولوں کا مُثلہ کرنا، کھیتوں اور مویشیوں کو خواہ مخواہ برباد کرنا اور دُوسرے تمام وحشیانہ اور ظالمانہ افعال ‘‘حد سے گزرنے ’’ کی تعریف میں آتے ہیں اور حدیث میں ان سب کی ممانعت وارد ہے۔ آیت کا منشا یہ ہے کہ قوت کا استعمال وہیں کیا جائے،  جہاں وہ ناگزیر ہو، اور اُسی حد تک کیا جائے،  جتنی اس کی ضرورت ہو۔

۲۰۲-یہاں فتنے کا لفظ اُسی معنی میں استعمال ہوا ہے،  جس میں انگریزی کا لفظ ( Persecution ) استعمال ہوتا ہے،  یعنی کسی گروہ یا شخص کو محض اس بنا پر ظلم و ستم کا نشانہ بنانا کہ اس نے رائج الوقت خیالات و نظریات کی جگہ کچھ دُوسرے خیالات و نظریات کو حق پا کر قبول کر لیا ہے اور وہ تنقید و تبلیغ کے ذریعے سے سوسائٹی کے موجود الوقت نظام میں اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ آیت کا منشا یہ ہے کہ بلا شبہہ انسانی خون بہانا بہت بُرا فعل ہے،  لیکن جب کوئی انسانی گروہ زبردستی اپنا فکری استبداد دُوسروں پر مسلط کرے اور لوگوں کو قبولِ حق سے بجبر روکے اور اصلاح و تغیر کی جائز و معقول کوششوں کا مقابلہ دلائل سے کرنے کے بجائے حیوانی طاقت سے کرنے لگے،  تو وہ قتل کی بہ نسبت زیادہ سخت بُرائی کا ارتکاب کرتا ہے اور ایسے گروہ کو بزورِ شمشیر ہٹا دینا بالکل جائز ہے۔

۲۰۳-یعنی تم جس خدا پر ایمان لائے ہو، اس کی صفت یہ ہے کہ بدتر سے بدتر مجرم اور گناہ گار کو بھی معاف کر دیتا ہے،  جبکہ وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آ جائے۔ یہی صفت تم اپنے اندر بھی پیدا کرو۔ تخلّقو ا با خلاق اللہ۔تمہاری لڑائی انتقام کی پیاس بجھانے کے لیے نہ ہو بلکہ خدا کے دین کا راستہ صاف کرنے کے لیے ہو۔ جب تک کوئی گروہ راہِ خدا میں مزاحم رہے،  بس اُسی وقت تک اس سے تمہاری لڑائی بھی رہے،  اور جب وہ اپنا رویہ چھوڑ دے،  تو تمہارا ہاتھ بھی پھر اُس پر نہ اُٹھے۔