تفہیم القرآن جلد اول

۲۰۴-یہاں فتنہ کا لفظ اُوپر کے معنی سے ذرا مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے۔ سیاق و سباق سے صاف ظاہر ہے کہ اس مقام پر ’’ فتنے ‘‘ سے مراد وہ حالت ہے جس میں دین اللہ کے بجائے کسی اور کے لیے ہو، اور لڑائی کا مقصد یہ ہے کہ یہ فتنہ ختم ہو جائے اور دین صرف اللہ کے لیے ہو۔ پھر جب ہم لفظ ’’دین‘‘ کی تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عربی زبان میں دین کے معنی ’’اطاعت‘‘ کے ہیں اور اصطلاحاً اس سے مراد وہ نظام ِ زندگی ہے جو کسی کو بالاتر مان کر اُس کے احکام و قوانین کی پیروی میں اختیار کیا جائے۔ پس دین کی اس تشریح سے یہ بات خود واضح ہو جاتی ہے کہ سوسائٹی کی وہ حالت،  جس میں بندوں پر بندوں کی خدائی و فرماں روائی قائم ہو، اور جس میں اللہ کے قانون کے مطابق زندگی بسر کرنا ممکن نہ رہے،  فتنے کی حالت ہے اور اسلامی جنگ کا مطمح نظر یہ ہے کہ اس فتنے کی جگہ ایسی حالت قائم ہو، جس میں بندے صرف قانونِ الٰہی کے مطیع بن کر رہیں۔

۲۰۵-باز آ جانے سے مراد کافروں کا اپنے کفر و شرک سے باز آ جانا نہیں، بلکہ فتنہ سے باز آ جانا ہے۔ کافر، مشرک، دہریے،  ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنا جو عقیدہ رکھتا ہے،  رکھے اور جس کی چاہے عبادت کرے یا کسی کی نہ کرے۔ اس گمراہی سے اس کو نکالنے کے لیے ہم اسے فہمائش اور نصیحت کریں گے مگر اس سے لڑیں گے نہیں۔ لیکن اُسے یہ حق ہر گز نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر خدا کے قانون کے بجائے اپنے باطل قوانین جاری کرے اور خدا کے بندوں کو غیر از خدا کسی کا بندہ بنائے۔ اس فتنے کو دفع کرنے کے لیے حسبِ موقع اور حسب ِ امکان، تبلیغ اور شمشیر، دونوں سے کام لیا جائے گا اور مومن اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے گا،  جب تک کفّار اپنے اس فتنے سے باز نہ آ جائیں۔

اور یہ جو فرمایا کہ اگر وہ باز آ جائیں، تو ’’ظالموں کے سوا کسی پر دست درازی نہ کرو‘‘،  تو اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جب نظامِ باطل کی جگہ نظامِ حق قائم ہو جائے،  تو عام لوگوں کو تو معاف کر دیا جائے گا، لیکن ایسے لوگوں کو سزا دینے میں اہلِ حق بالکل حق بجانب ہوں گے،  جنہوں نے اپنے دَورِ اقتدار میں نظامِ حق کا راستہ روکنے کے لیے ظلم و ستم کی حد کر دی ہو، اگرچہ اس معاملے میں بھی مومنینِ صالحین کو زیب یہی دیتا ہے کہ عفو و درگزر سے کام لیں اور فتحیاب ہو کر ظالموں سے انتقام نہ لیں۔ مگر جن کے جرائم کی فہرست بہت ہی زیادہ سیاہ ہو اُن کو سزا دینا بالکل جائز ہے اور اس اجازت سے خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فائدہ اُٹھایا ہے،  جن سے بڑھ کر عفو و درگزر کسی کے شایانِ شان نہ تھا۔ چنانچہ جنگِ بدر کے قیدیوں میں سے عُقْبہ بن ابی مُعَیط اور نَضْر بن حارث کا قتل اور فتح ِ مکہ کے بعد آپ کا ۱۷ آدمیوں کو عفوِ عام سے مستثنیٰ فرمانا اور پھر ان میں سے چار کو سزائے موت دینا اسی اجازت پر مبنی تھا۔

۲۰۶-اہلِ عرب میں حضرت ابراہیمؑ  کے وقت سے یہ قاعدہ چلا آ رہا تھا کہ ذی القعدہ، ذی الحجّہ اور مُحَرَّم کے تین مہینے حج کے لیے مختص تھے اور رجب کا مہینہ عُمرے کے لیے خاص کیا گیا تھا،  اور ان چار مہینوں میں جنگ اور قتل و غارت گری ممنوع تھی تاکہ زائرین ِ کعبہ امن و امان کے ساتھ خدا کے گھر تک جائیں اور اپنے گھروں کو واپس ہو سکیں۔ اِس بنا پر اِن مہینوں کو حرام مہینے کہا جاتا تھا، یعنی حرمت والے مہینے۔ آیت کا منشا یہ ہے کہ ماہِ حرام کی حُرمت کا لحاظ کفار کریں، تو مسلمان بھی کریں اور اگر وہ اس حرمت کو نظر انداز کر کے کسی حرام مہینے میں مسلمانوں پر دست درازی کر گزریں،  تو پھر مسلمان بھی ماہِ حرام میں بدلہ لینے کے مجاز ہیں۔

اس اجازت کی ضرورت خاص طور پر اس وجہ سے پیش آ گئی تھی کہ اہلِ عرب نے جنگ و جدل اور لُوٹ مار کی خاطر نَسِی کا قاعدہ بنا رکھا تھا، جس کی رُو سے وہ اگر کسی سے انتقام لینے کے لیے یا غارت گری کرنے کے لیے جنگ چھیڑنا چاہتے تھے،  تو کسی حرام مہینے میں اُس پر چھاپہ مار دیتے اور پھر اس مہینے کی جگہ کسی دُوسرے حلال مہینے کو حرام کر کے گویا اس حرمت کا بدلہ پُورا کر دیتے تھے۔ اس بنا پر مسلمانوں کے سامنے یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر کفّار اپنے نَسِی کے حیلے کو کام میں لا کر کسی حرام مہینے میں جنگی کاروائی کر بیٹھیں، تو اُس صُورت میں کیا کیا جائے۔ اسی سوال کا جواب آیت میں دیا گیا ہے۔