تفہیم القرآن جلد اول

شان نزول

اس سورت کو سمجھنے کے لئے پہلے اس کا تاریخی پس منظر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے :

    ۱:۔ ہجرت سے قبل جب تک مکہ میں اسلام کی دعوت دی جاتی رہی خطاب بیشتر مشرکین عرب سے تھا جن کے لئے اسلام کی اواز ایک نئی اور غیر مانوس آواز تھی۔ اب ہجرت کے بعد سابقہ یہودیوں سے پیش آیا جن کی بستیاں مدینے سے بالکل متصل ہی واقع تھیں۔ یہ لوگ توحید، رسالت، وحی، آخرت اور ملائکہ کے قائل تھے،  اس ضابطۂ شرعی کو تسلیم کرتے تھے جو خدا کی طرف سے ان کے نبی موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا اور اصولاً ان کا دین وہی اسلام تھا جس کی تعلیم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دے رہے تھے لیکن صدیوں کے مسلسل انحطاط نے ان کو اصل دین سے بہت دور ہٹا دیا تھا۔ ان کے عقائد میں بہت سے غیر اسلامی عناصر کی آمیزش ہو گئی تھی جن کے لئے تورات میں کوئی سند موجود نہ تھی۔ ان کی عملی زندگی میں بکثرت ایسے رسوم اور طریقے رواج پا گئے تھے جو اصل دین میں نہ تھے اور جن کے لیے تورات میں کوئی ثبوت نہ تھا۔ خود تورات کو انہوں نے انسانی کلام کے اندر خلط ملط کر دیا تھا اور خدا کا کلام جس حد تک لفظاً یا  معنیً محفوظ تھا اس کو بھی انہوں نے اپنی من مانی تاویلوں اور تفسیروں سے مسخ کر رکھا تھا۔ دین کی حقیقی روح ان میں سے نکل چکی تھی اور ظاہری مذہبیت کا محض ایک بے جان ڈھانچہ باقی تھا جس کو وہ سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ ان کے علماء اور مشائخ، ان کے سردارانِ قوم اور ان کے عوام، سب کی اعتقادی، اخلاقی اور عملی حالت بگڑ گئی تھی اور اپنے اس بگاڑ سے ان کو اتنی محبت تھی کہ وہ کسی اصلاح کو قبول کرنے پر تیار نہ ہوتے تھے۔ صدیوں سے مسلسل ایسا ہو رہا تھا کہ جب کوئی اللہ کا بندہ انہیں دین کا سیدھا راستہ بتانے آتا تو وہ اسے اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے اور ہر ممکن طریقے سے کوشش کرتے تھے کہ وہ کسی طرح اصلاح میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یہ لوگ حقیقت میں بگڑے ہوئے مسلمان تھے جن کے ہاں بدعتوں اور تحریفوں،  موشگافیوں اور فرقہ بندیوں،  استخواں گیری و مغز افگنی، خدا فراموشی و دنیا پرستی کی بدولت انحطاط اس حد کو پہنچ چکا تھا کہ وہ اپنا اصل نام “مسلم” تک بھول گئے تھے،  محض “یہودی” بن کر رہ گئے تھے اور اللہ کے دین کو انہوں نے محض نسل اسرائیل کی آبائی وراثت بنا کر رکھ دیا تھا۔ پس جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ ان کو اصل دین کی طرف دعوت دیں چنانچہ سورۂ بقرہ کے ابتدائی پندرہ سولہ رکوع اسی دعوت پر مشتمل ہیں ان میں یہودیوں کی تاریخ اور ان کی اخلاقی و مذہبی حالت پر جس طرح تنقید کی گئی ہے اور جس طرح ان کے بگڑے ہوئے مذہب و اخلاق کی نمایاں خصوصیات کے مقابلے میں حقیق دین کے اصول پہلو بہ پہلو پیش کیے گئے ہیں،  اس سے یہ بات بالکل آئینے کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ایک پیغمبر کی امت کے بگاڑ کی نوعیت کیا ہوتی ہے،  رسمی دینداری کے مقابلے میں حقیقی دینداری کس چیز کا نام ہے،  دینِ حق کے بنیادی اصول کیا ہیں اور خدا کی نگاہ میں اصل اہمیت کن چیزوں کی ہے۔