تفہیم القرآن جلد اول

۲۳۳-مسلمانوں میں بعض سادہ لوح لوگ،  جن کے ذہن پر نیکی اور صُلح پسندی کا ایک غلط تصور مسلّط تھا، کفّارِ مکّہ اور یہُودیوں کے مذکورۂ بالا اعتراضات سے متاثر ہو گئے تھے۔ اس آیت میں انھیں سمجھایا گیا ہے کہ تم اپنی ان باتوں سے یہ اُمید نہ رکھو کہ تمہارے اور ان کے درمیان صفائی ہو جائے گی۔ اُن کے اعتراضات صفائی کی غرض سے ہیں ہی نہیں۔ وہ تو در اصل کیچڑ اُچھالنا چاہتے ہیں۔ انھیں یہ بات کَھل رہی ہے کہ تم اِس دین پر ایمان کیوں لائے ہو اور اس کی طرف دُنیا کو دعوت کیوں دیتے ہو۔ پس جب تک وہ اپنے کُفر پر اَڑے ہوئے ہیں اور تم اس دین پر قائم ہو، تمہارے اور ان کے درمیان صفائی کسی طرح نہ ہو سکے گی۔ اور ایسے دُشمنوں کو تم معمُولی دُشمن بھی نہ سمجھو۔ جو تم سے مال و زر یا زمین چھیننا چاہتا ہے،  وہ کمتر درجے کا دُشمن ہے۔ مگر جو تمہیں دینِ حق سے پھیرنا چاہتا ہے،  وہ تمہارا بدترین دُشمن ہے۔ کیونکہ پہلا تو صرف تمہاری دُنیا ہی خراب کرتا ہے،  لیکن یہ دُوسرا تمہیں آخرت کے اَبدی عذاب میں دھکیل دینے پر تُلا ہوا ہے۔

۲۳۴-جہاد کے معنی ہیں کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی انتہائی کوشش صرف کر دینا۔ یہ محض جنگ کا ہم معنی نہیں ہے۔ جنگ کے لیے تو ’’قِتَال‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جِھَاد اس سے وسیع تر مفہُوم رکھتا ہے اور اس میں ہر قسم کی جدوجہد شامل ہے۔ مجاہد وہ شخص ہے،  جو ہر وقت اپنے مقصد کی دھُن میں لگا ہو، دماغ سے اس کے لیے تدبیریں سوچے،  زبان و قلم سے اسی کی تبلیغ کرے،  ہاتھ پا ؤ ں سے اسی کے لیے دَوڑ دھُوپ اور محنت کرے،  اپنے تمام امکانی وسائل اُس کو فروغ دینے میں صَرف کر دے،  اور ہر اُس مزاحمت کا پُوری قوت کے ساتھ مقابلہ کرے جو اس راہ میں پیش آئے،  حتّیٰ کہ جب جان کی بازی لگانے کی ضرورت ہو تو اس میں بھی دریغ نہ کرے۔ اس کا نام ہے ’’جہاد‘‘۔ اور جہاد فی سبیل اللہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ صرف اللہ کی رضا کے لیے اور اس غرض کے لیے کیا جائے کہ اللہ کا دین اس کی زمین پر قائم ہو اور اللہ کا کلمہ سارے کلموں پر غالب ہو جائے۔ اس کے سوا اور کوئی غرض مجاہد کے پیشِ نظر نہ ہو۔