تفہیم القرآن جلد اول

۲۳۵-یہ شراب اور جُوے کے متعلق پہلا حکم ہے،  جس میں صرف اظہار ِ ناپسندیدگی کر کے چھوڑ دیا گیا ہے،  تاکہ ذہن ان کی حرمت قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ بعد میں شراب پی کر نماز پڑھنے کی ممانعت آئی۔ پھر شراب اور جُوے اور اس نوعیت کی تمام چیزوں کو قطعی حرام کر دیا گیا۔(ملاحظہ ہو سُورۂ نساء، آیت ۴۳ و سُورۂ مائدہ، آیت ۹۰)

۲۳۶-اس آیت کے نزول سے پہلے قرآن میں یتیموں کے حقوق کے حفاظت کے متعلق بار بار سخت احکام آ چکے تھے اور یہاں تک فرما دیا گیا تھا کہ ‘‘یتیم کے مال کے پاس نہ پھٹکو۔’’ اور یہ کہ ‘‘جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں۔’’ ان شدید احکام کی بنا پر وہ لوگ، جن کی تربیت میں یتیم بچے تھے،  اس قدر خوف زدہ ہو گئے تھے کہ انہوں نے ان کا کھانا پینا تک اپنے سے الگ کر دیا تھا اور اس احتیاط پر بھی انہیں ڈر تھا کہ کہیں یتیموں کے مال کا کوئی حصّہ ان کے مال میں نہ مِل جائے۔ اسی لیے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا کہ ان بچوں کے ساتھ ہمارے معاملے کی صحیح صُورت کیا ہے۔

۲۳۷-یہ ہے علّت و مصلحت اُس حکم کی جو مشرکین کے ساتھ شادی بیاہ کا تعلق نہ رکھنے کے متعلق اُوپر بیان ہوا تھا۔ عورت اور مرد کے درمیان نکاح کا تعلق محض ایک شہوانی تعلق نہیں ہے،  بلکہ وہ ایک گہرا تمدّنی،  اخلاقی اور قلبی تعلق ہے۔ مومن اور مشرک کے درمیان اگر یہ قلبی تعلق ہو، تو جہاں اس امر کا امکان ہے کہ مومن شوہر یا بیوی کے اثر سے مشرک شوہر یا بیوی پر اور اس کے خاندان اور آئندہ نسل پر اسلام کے عقائد اور طرزِ زندگی کا نقش ثبت ہو گا،  وہیں اس امر کا بھی امکان ہے کہ مشرک شوہر یا بیوی کے خیالات اور طور طریقوں سے نہ صرف مومن شوہر یا بیوی بلکہ اس کا خاندان اور دونوں کی نسل تک متاثر ہو جائے گی، اور غالب امکان اس امر کا ہے کہ ایسے ازدواج سے اسلام اور کفر و شرک کی ایک ایسی معجون مرکّب اُس گھر اور اس خاندان میں پرورش پائے گی، جس کو غیر مسلم خواہ کتنا ہی نا پسند کریں،  مگر اسلام کسی طرح پسند کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جو شخص صحیح معنوں میں مومن ہو وہ محض اپنے جذباتِ شہوانی کی تسکین کے لیے کبھی یہ خطرہ مول نہیں لے سکتا کہ اس کے گھر اور اس کے خاندان میں کافرانہ و مشرکانہ خیالات اور طور طریقے پرورش پائیں اور وہ خود بھی نا دانستہ اپنی زندگی کے کسی پہلو میں کفر و شرک سے متاثر ہو جائے۔ اگر بالفرض ایک فردِ مومن کسی فرد ِ مشرک کے عشق میں بھی مبتلا ہو جائے،  تب بھی اس کے ایمان کا اقتضا یہی ہے کہ وہ اپنے خاندان،  اپنی نسل اور خود اپنے دین و اخلاق پر اپنے شخصی جذبات قربان کر دے۔