تفہیم القرآن جلد اول

۲۳۹-قرآن مجید اس قسم کے معاملات کو استعاروں اور کنایوں میں بیان کرتا ہے۔ اس لیے اس نے ’’الگ رہو‘‘ اور ’’قریب نہ جا ؤ ‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ ایک فرش پر بیٹھنے یا ایک جگہ کھانا کھانے سے بھی احتراز کیا جائے اور اسے بالکل اچھُوت بنا کر رکھ دیا جائے،  جیسا کہ یہُود اور ہنُود اور بعض دُوسری قوموں کا دستور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حکم کی جو توضیح فرما دی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حالت میں صرف فعلِ مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیے،  باقی تمام تعلقات بدستور برقرار رکھے جائیں۔

۲۴۰-یہاں حکم سے مراد حکم ِ شرعی نہیں ہے،  بلکہ وہ فطری حکم مراد ہے،  جو انسان اور حیوان،  سب کی جبلّت میں ودیعت کر دیا گیا ہے اور جس سے ہر متنفس بالطبع واقف ہے۔

۲۴۱-یعنی فطرۃ اللہ نے عورتوں کو مَردوں کے لیے سیر گاہ نہیں بنایا ہے،  بلکہ ان دونوں کے درمیان کھیت اور کسان کا سا تعلق ہے۔ کھیت میں کسان محض تفریح کے لیے نہیں جاتا، بلکہ اس لیے جاتا ہے کہ اس سے پیداوار حاصل کرے۔ نسلِ انسانی کے کسان کو بھی انسانیت کی کھیتی میں اس لیے جانا چاہیے کہ وہ اس سے نسل کی پیداوار حاصل کرے۔ خدا کی شریعت کو اِس سے بحث نہیں کہ تم اس کھیت میں کاشت کس طرح کرتے ہو، البتہ اس کا مطالبہ تم سے یہ ہے کہ جا ؤ کھیت ہی میں، اور اس غرض کے لیے جا ؤ کہ اس سے پیداوار حاصل کرنی ہے۔

۲۴۲-جامع الفاظ ہیں، جن سے دو مطلب نکلتے ہیں اور دونوں کی یکساں اہمیت ہے۔ ایک یہ کہ اپنی نسل برقرار رکھنے کی کوشش کرو تاکہ تمہارے دُنیا چھوڑنے سے پہلے تمہاری جگہ دُوسری کام کرنے والے پیدا ہوں۔ دُوسرے یہ کہ جس آنے والی نسل کو تم اپنی جگہ چھوڑنے والے ہو، اس کو دین، اخلاق اور آدمیّت کے جوہروں سے آراستہ کرنے کی کوشش کرو۔ بعد کے فقرے میں اس بات پر بھی تنبیہ فرما دی ہے کہ اگر ان دونوں فرائض کے ادا کرنے میں تم نے قصداً کوتاہی کی، تو اللہ تم سے باز پرس کرے گا۔