تفہیم القرآن جلد اول

پوچھتے ہیں: حیض کا کیا حکم ہے ؟ کہو: وہ ایک گندگی کی حالت ہے۔۲۳۸ اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں ۲۳۹۔پھر جب وہ پاک ہو جائیں، تو ان کے پاس جاؤ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔۲۴۰ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے،  جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں۔ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ تمہیں اختیار ہے،  جس طرح چاہو، اپنی کھیتی میں جاؤ ۲۴۱، مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو ۲۴۲ اور اللہ کی ناراضی سے بچو۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے۔ اور اے نبیؐ ! جو تمہاری ہدایت کو مان لیں انہیں فلاح و سعادت کا مژدہ سنا دو۔ اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو، جن سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو۔۲۴۳ اللہ تمہاری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا،۲۴۴ مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں، ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے ۲۴۵۔ اگر انھوں نے رجوع کر لیا، تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔۲۴۶اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ۲۴۷ ہو تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔۲۴۸جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو،  وہ تین مرتبہ ایّام ِ ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ خَلق فرمایا ہو، اسے چھپائیں۔ انھیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے،  اگر وہ اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتی ہیں۔ ان کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اس عدّت کے دوران میں انھیں پھر اپنی زوجیّت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں۔۲۴۹ عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مَردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے۔ ؏۲۸

۲۳۸-اصل میں اَذیٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے،  جس کے معنی گندگی کے بھی ہیں اور بیماری کے بھی۔ حیض صرف ایک گندگی ہی نہیں ہے،  بلکہ طبی حیثیت سے وہ ایک ایسی حالت ہے،  جس میں عورت تندرستی کی بہ نسبت بیماری سے قریب تر ہوتی ہے۔