تفہیم القرآن جلد اول

جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ عدّت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیرِ تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ معروف طریقے سے با ہم مناکحت پر راضی ہوں۔ ۲۵۶ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدّت رضاعت تک دودھ پیے،  تو مائیں اپنے بچّوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں۔۲۵۷ اس صورت میں بچّے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہو گا۔ مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالنا چاہیے،  نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچّہ اس کا ہے،  اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچّہ اس کا ہے۔۔۔۔ دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا بچّے کے باپ پر ہے،  ویسا ہی اس کے وارث پربھی ہے ۲۵۸۔۔۔۔ لیکن اگر فریقین باہمی رضا مندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو، وہ معروف طریقے پر ادا کر دو۔ اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو،  سب اللہ کی نظر میں ہے۔تم میں سے جو لوگ مر جائیں،  ان کے پیچھے اگر ان کی بیویاں زندہ ہوں، تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے،  دس دن روکے رکھیں۔ ۲۵۹ پھر جب ان کی عدّت پوری ہو جائے،  تو انہیں اختیار ہے،  اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں، کریں۔ تم پر اس کی کوئی ذمّے داری نہیں۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے۔ زمانۂ عدّت میں خواہ تم ان بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کر دو، خواہ دل میں چھپائے رکھو، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی۔ مگر دیکھو! خفیہ عہد و پیمان نہ کرنا۔ اگر کوئی بات کرنی ہے،  تو معروف طریقے سے کرو۔ اور عقدِ نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو، جب تک کہ عدّت پوری نہ ہو جائے،  خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بُرد بار ہے،  چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر فرماتا ہے۔ ؏۳۰