۱۹-مطلب یہ ہے کہ خدا کے دین کو تمہاری ان بیہودہ رسموں سے کیا تعلق۔ اُس نے جس دین کی تعلیم دی ہے اس کے بنیادی اصول تو یہ ہیں کہ :
(۱) انسان اپنی زندگی کو عدل و راستی کی بنیاد پر قائم کرے،
(۲) عبادت مین اپنا رُخ ٹھیک رکھے، یعنی خد ا کے سوا کسی اور کی بندگی کا شائبہ تک اس کی عبادت میں نہ ہو، معبود حقیقت کے سوا کسی دوسرے کی طر ف اطاعت و غلامی اور عجز و نیاز کا رُخ ذرا نہ پھرنے پائے،
(۳)رہنمائی اور تائید و نصرت اور نگہبانی و حفاظت کے لیے خدا ہی سے دُعا مانگے، مگر شرط یہ ہے کہ اس چیز کی دُعا مانگنے والا آدمی پہلے اپنے دین کو خدا کے لیے خالص کر چکا ہو۔ یہ نہ ہو کہ زندگی کا سارا نظام تو کفر و شرک اور معصیّت اور بندگیِ اغیار پر چلا یا جا رہا ہو اور مدد خدا سے مانگی جائے کہ اے خدا، یہ بغاوت جو ہم تجھ سے کر رہے ہیں اس میں ہماری مدد فرما۔
(۴) اور اس بات پر یقین رکھے کہ جس طرح اس دنیا میں وہ پیدا ہوا ہے اسی طرح ایک دوسرے عالم میں بھی اس کو پیدا کیا جائے گا اور اسے اپنے اعمال کا حساب خدا کو دینا ہو گا۔
۲۰-یہاں زینت سے مرد مکمل لباس ہے۔ خدا کی عبادت میں کھڑے ہونے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ آدمی محض اپنا ستر چھپا لے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حسب استطاعت وہ اپنا پورا لباس پہنے جس میں ستر پوشی بھی ہو اور زینت بھی۔ یہ حکم اُس غلط رویہ کی تردید کے لیے ہے جس پر جہلا اپنی عبادتوں میں عمل کرتے رہے ہیں اور آج تک کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ برہنہ یا نیم برہنہ ہو کر اور اپنی ہیئتوں کو بگاڑ کر خدا کی عبادت کرنی چاہیے۔ اس کے برعکس خدا کہتا ہے کہ اپنی زینت سے آراستہ ہو کو ایسی وضع میں عبادت کرنی چاہیے جس کے اندر بر ہنگی تو کیا، نا شائستگی کا بھی شائبہ تک نہ ہو۔
۲۱-یعنی خدا کو تمہاری خستہ حالی ور فاقہ کشی اور طیّباتِ رزق سے محرومی عزیز نہیں ہے کہ اس کی بندگی بجا لانے کے لیے یہ کسی درجہ میں بھی مطلوب ہو۔ بلکہ اس کی عین خوشی یہ ہے کہ تم اس کے بخشے ہوئے عمدہ لباس پہنو اور پاک رزق سے متمتع ہو۔ اس کی شریعت میں اصل گناہ یہ ہے کہ آدمی ا س کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرے، خواہ یہ تجاوز حلال کو حرام کر لینے کی شکل میں ہو یا حرام کو حلال کر لینے کی شکل میں۔
