تفہیم القرآن جلد دوم

اے محمد ؐ، اِن سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟۲۲ کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصتًہ انہی کے لیے ہوں گی۔۲۳ اِس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں۔ اے محمد ؐ، اِن سے کہو کہ میرے ربّ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام۔۔۔۔خواہ کھُلے ہوں یا چھُپے۔۔۔۔۲۴ اور گُناہ ۲۵ اور حق کے خلاف زیادتی ۲۶ اور یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اُس نے فرمائی ہے۔ ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدّت مقرر ہے، پھر جب کسی قوم کی مدّت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم نہیں ہوتی۔۲۷ (اور یہ بات اللہ نے آغازِ تخلیق ہی میں صاف فرما دی تھی کہ) اے بنی آدم، یاد رکھو، اگر تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سُنا رہے ہوں، تو جو کوئی نا فرمانی سے بچے گا اور اپنے رویّہ کی اصلاح کر لے گا اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے، اور جو لوگ ہماری آیات کو جھُٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی برتیں گے وہی اہلِ دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ۲۸ظاہر ہے کہ اُس سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جو بالکل جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جھُٹلائے۔ ایسے لوگ اپنے نوشتۂ قدیر کے مطابق اپنا حصّہ پاتے رہیں گے، ۲۹ یہاں تک کہ وہ گھڑی آ جائے گی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے پہنچیں گے۔ اُس وقت وہ اُن سے پوچھیں گے کہ بتاؤ، اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم خدا کے بجائے پُکارتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ ’’سب ہم سے گُم ہو گئے ‘‘۔ اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکرِ حق تھے۔ اللہ فرمائے گا جاؤ،تم بھی اُسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گُزرے ہوئے گروہِ جِن و انس جا چکے ہیں۔ ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہو گا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہو گا، حتیٰ کہ سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے ربّ، یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا لہٰذا اِنہیں آگ کا دوہرا عذاب دے۔ جواب میں اِرشاد ہو گا، ہر ایک کے لیے دوہرا ہی عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔۳۰اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا(اگر ہم قابلِ الزام تھے ) تو تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی، اب اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو۔۳۱؏ ۴