تفہیم القرآن جلد دوم

حدیث میں اسی مضمون کی توضیح یوں بیان فرمائی گئی ہے کہ من ابتدع بدعة ضلالةِ لا یر ضا ھا اللہ و رسولہ کان علیہ من الاثم مثل اٰثام من عمل بھا لا ینقص ذالک من اوزارھم شیئا۔ یعنی جس نے کسی نئی گمراہی کا آغاز کیا جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک نا پسندیدہ ہو، تو اس پر ان سب لوگوں کے گناہ کی ذمہ دار ی عائد ہو گی جنہوں نے اس کے نکالے ہوئے طریقہ پر عمل کیا، بغیر اس کے کہ خود ان عمل کرنے والوں کی ذمہ دار ی میں کوئی کمی ہو۔ دوسری حدیث میں ہے لاتقتل نفس ظلما الاکان علی ابن اٰدم الاول کفل من دمھالا نہ اول من سن القتل۔ یعنی دنیا میں جو انسان بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جاتا ہے اس کے خونِ نا حق کا ایک حصہ آدم کے اُس پہلے بیٹے کو پہنچتا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا، کیونکہ قتلِ انسان کا راستہ سب سے پہلے اسی نے کھولا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص یا گروہ کسی غلط خیال یا غلط رویّہ کی بنا ڈالتا ہے وہ صرف اپنی ہی غلطی کا ذمہ دار  نہیں ہوتا بلکہ دنیا میں جتنے انسان اس سے متاثر ہوتے ہیں اُن سب کے گناہ کی ذمہ دار ی کا بھی ایک حصہ اس کے حساب میں لکھا جاتا رہتا ہے اور جب تک اس کی غلطی کے اثرات چلتے رہتے ہیں اس کے حساب میں ان کا اندراج ہوتا رہتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر شخص اپنی نیکی یا بدی کا صرف اپنی ذات کی حد تک ہی ذمہ دار  نہیں ہے بلکہ اس امر کا بھی جواب دہ ہے کہ اس کی نیکی یا بدی کے کیا اثرات دوسروں کی زندگیوں پر مرتب ہوئے۔

مثال کے طور پر ایک زانی کو لیجیے۔ جن لوگوں کی تعلیم و تربیت سے، جن کی صحبت کے اثر سے، جن کی بُری مثالیں دیکھنے سے، اور جن کی ترغیبات سے اس شخص کے اندر زنا کاری کی صفت نے ظہور کیا وہ سب اس کے زنا کار بننے میں حصہ دار  ہیں۔اور خود اُن لوگوں نے اوپر جہاں جہاں سے اس بد نظری و بدنیتی اور بدکاری کی میراث پائی ہے وہاں تک اس کی ذمہ دار ی پہنچتی ہے حتیٰ کہ یہ سلسلہ اس اولین انسان پر منتہی ہوتا ہے جس نے سب سے پہلے نوعِ انسانی کو خواہش نفس کی تسکین کا یہ غلط راستہ دکھایا۔ یہ اُس زانی کے حساب کا وہ حصہ ہے جو اس کے ہم عصروں اور اس کے اسلاف سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر وہ خود بھی اپنی زنا کاری کا ذمہ دار  ہے۔ اُس کو بھلے اور بُرے کی جو تمیز دی گئی تھی، اس میں ضمیر کی جو طاقت رکھی گئی تھی، اس کے اندر ضبطِ نفس کی جو قوت ودیعت کی گئی تھی، اس کو نیک لوگوں سے خیر و شر کا جو علم پہنچا تھا، اس کے سامنے اخیار کی جو مثالیں موجود تھیں، اس کو صنفی بد عملی کے برے نتائج سے جو واقفیت تھی، ان میں سے کسی چیز سے بھی اس نے فائدہ نہ اُٹھایا اور اپنے آپ کو نفس کی اُس اندھی خواہش کے حوالے کر دیا جو صرف اپنی تسکین چاہتی تھی خواہ وہ کسی طریقہ سے ہو۔ یہ اس کے حساب کا وہ حصہ ہے جو اس کی اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر یہ شخص اُس بدی کو جس کا اکتساب اس نے کیا اور جسے خود اپنی سعی سے وہ پرورش کرتا رہا، دوسروں میں پھیلانا شروع کرتا ہے۔ کسی مرضِ خبیث کی چھوت کہیں سے لگا لاتا ہے اور اسے اپنی نسل میں اور خدا جانے کن کن نسلوں میں پھیلا کر نہ معلوم کتنی زندگیوں کو خراب کر دیتا ہے۔ کہیں اپنا نطفہ چھوڑ آتا ہے اور جس بچہ کی پرورش کا بار اسے خود اُٹھانا چاہیے تھا اسے کسی اور کی کمائی کا ناجائز حصہ دار، اس کے بچوں کے حقوق میں زبردستی کا شریک، اس کی میراث میں ناحق کا حق دار  بنا دیتا ہے اور اِس حق تلفی کا سلسلہ نہ معلوم کتنی نسلوں تک چلتا رہتا ہے۔ کسی دوشیزہ لڑکی کو پھُسلا کر بد اخلاقی کی راہ پر ڈالتا ہے اور اس کے اندر وہ بُری صفات ابھار دیتا ہے جو اس سے منعکس ہو کر نہ معلوم کتنے خاندانوں اور کتنی نسلوں تک پہنچتی ہیں اور کتنے گھر بگاڑ دیتی ہیں۔ اپنی اولاد، اپنے اقارب، اپنے دوستوں اور اپنی سوسائٹی کے دوسرے لوگوں کے سامنے اپنے اخلاق کی ایک بُری مثال پیش کرتا ہے اور نہ معلوم کتنے آدمیوں کے چال چلن خرب کرنے کا سبب بن جاتا ہے جس کے اثرات بعد کی نسلوں میں مدّتہائے دراز تک چلتے رہتے ہیں۔ یہ سارا فساد جو اس شخص نے سوسائٹی میں برپا کیا، انصاف چاہتا ہے کہ یہ بھی اس کے حساب میں لکھا جائے اور اس وقت تک لکھا جاتا رہے جب تک اس کی پھیلائی ہوئی خرابیوں کا سلسلہ دنیا میں چلتا رہے۔