تفہیم القرآن جلد دوم

۲۷-مہلت کی مدت مقرر کیے جانے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ہر قوم کے لیے برسوں اور مہینوں اور دنوں کے لحاظ سے ایک عمر مقرر کی جاتی ہو اور اس عمر کے تمام ہوتے ہی اس قوم کو لازماً ختم کر دیا جاتا ہو۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر قوم کو دنیا میں کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے اس کی ایک اخلاقی حد مقرر کر دی جاتی ہے، بایں معنی کہ اس کے اعمال میں خیر اور شر کا کم سے کم کتنا تناسُب برداشت کیا جا سکتا ہے۔ جب تک ایک قوم کی بُری صفات اس کی اچھی صفات کے مقابلہ میں تناسُب کی اُس آخری حد سے فروتر رہتی ہیں اس وقت تک اُسے اس کی تمام برائیوں کے باوجود مہلت دی جاتی رہتی ہے، اور جب وہ اس حد سے گزر جاتی ہیں تو پھر اس بدکار و بد صفات قوم کو مزید کوئی مہلت نہیں دی جاتی، اس بات کو سمجھنے کے لیے سورہ نوح ؑ آیات۴-۱۰-۱۲ نگاہ میں رہیں۔

۲۸-یہ بات قرآن مجید میں ہر جگہ اُس موقع پر ارشاد فرمائی گئی ہے جہاں آدم و حوّا علیہما السلام کے جنت سے اتارے جانے کا ذکر آیا ہے (ملاحظہ ہو سورہ بقرہ، آیات ۳۹-۳۹۔طٰہٰ، آیات ۱۲۳-۱۲۴)لہٰذا یہاں بھی اس کو اسی موقع سے متعلق سمجھا جائے گا، یعنی نوعِ انسانی کی زندگی کا آغاز جب ہو رہا تھا اسی وقت یہ بات صاف طور پر سمجھا دی گئی تھی (ملاحظہ ہو سورہ آل عمران، حاشیہ ۶۹)

۲۹-یعنی دنیا میں جتنے دن ان کی مہلت کے مقرر ہیں یہاں رہیں گے اور جس قسم کی بظاہر اچھی یا بُری زندگی گزارنا اُن کے نصیب میں ہے گزار لیں گے۔

۳۰-یعنی بہرحال تم میں سے ہر گروہ کسی کا خلف تھا تو کسی کا سلف بھی تھا۔ اگر کسی گروہ کے اسلاف نے اُس کے لیے فکر و عمل کی گمراہیوں کا ورثہ چھوڑا تھا تو خود وہ بھی اپنے اخلاف کے لیے ویسا ہی ورثہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوا۔ اگر ایک گروہ کے گمراہ ہونے کی کچھ ذمہ دار ی اس کے اسلاف پر عائد ہوتی ہے تو اس کے اخلاف کی گمراہی کا اچھا خاصا بار خود اس پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اسی بنا پر فرمایا کہ ہر ایک کے لیے دو ہرا عذاب ہے۔ ایک عذاب خود گمراہی اختیار کرنے کا اور دوسرا عذاب دوسروں کو گمراہ کرنے کا۔ ایک سزا اپنے جرائم کی اور دوسری سزا دوسروں کے جرائم پیشگی کی میراث چھوڑ آنے کی۔