یہاں یہ بات اور جان لینی چاہیے کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جس ضابطہ کا ذکر فرمایا ہے ٹھیک یہی ضابطہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے موقع پر بھی برتا گیا اور شامت زدہ قوموں کے جس طرزِ عمل کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، ٹھیک وہی طرزِ عمل سورہ اعراف کے نزول کے زمانہ میں قریش والوں سے ظاہر ہو رہا تھا۔ حدیث میں عبد اللہ بن مسعود ؓ عبداللہ بن عباس ؓ دونوں کی متفقہ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی بعثت کے بعد جب قریش کے لوگوں نے آپ کی دعوت کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا شروع کیا تو حضور ؐ نے دعا کی کہ خدایا، یوسف کے زمانہ میں جیسا ہفت سالہ قحط پڑا تھا ویسے ہی قحط سے ان لوگوں کے مقابلہ میں میری مدد کر۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سخت قحط میں مبتلا کر دیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگ مردار کھانے لگے، چمڑے اور ہڈیاں اور اُون تک کھا گئے۔ آخر کار مکہ کے لوگوں نے، جن میں ابو سفیان پیش پیش تھا، حضور ؐ سے درخواست کی کہ ہمارے لیے خدا سے دعا کیجیے۔ مگر جب آپ کی دعا سے اللہ نے وہ بُرا وقت ٹال دیا ور بھلے دن آئے تو اُن لوگوں کی گردنیں پہلے سے زیادہ اکڑ گئیں، اور جن کے دل تھوڑے بہت پسیج گئے تھے ان کو بھی اشرارِ قوم نے یہ کہہ کہہ کر ایمان سے روکنا شروع کر دیا کہ میاں، یہ تو زمانے کا اتار چڑھاؤ ہے۔ پہلے بھی آ کر قحط آتے ہی رہے ہیں، کوئی نئی بات تو نہیں ہے کہ اس مرتبہ ایک لمبا قحط پڑ گیا، لہٰذا ان چیزوں سے دھوکا کھا کر محمد ؐ کے پھندے میں نہ پھنس جا نا۔ یہ تقریریں اس زمانے میں ہو رہی تھیں جب یہ سورہ اعراف نازل ہوئی ہے۔ اس لیے قرآن مجید کی یہ آیات ٹھیک اپنے موقع پر چسپاں ہوئی ہیں اور اسی پس منظر کو نگاہ میں رکھنے سے اِن کی معنویت پوری طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو یونس، آیت ۲۱۔ النحل ۱۱۲۔المومنون ۵۔۷۶۔ الدخان ۶۔۱۶)۔
۷۸-اصل میں لفظ مَکر استعمال ہوا ہے جس کے معنی عربی زبان میں خفیہ تدبیر کے ہیں، یعنی کسی شخص کے خلاف ایسی چال چلنا کہ جب تک اس پر فیصلہ کن ضرب نہ پڑ جائے اس وقت تک اسے خبر نہ ہو کہ اس کی شامت آنے والی ہے، بلکہ ظاہر حالات کو دیکھتے ہوئے وہ یہی سمجھتا رہے کہ سب اچھا ہے۔
