اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہلِ زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امرِ واقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں؟۷۹ ( مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے رہے ) اور ہم ان کے دِلوں پر مُہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سُنتے۔ ۸۰ یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سُنا رہے ہیں (تمہارے سامنے مثال میں موجود ہیں) ان کے رسُول ان کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھُٹلا چکے تھے پھر اُسے وہ ماننے والے نہ تھے۔ دیکھو اس طرح ہم منکرینِ حق کے دلوں پر مُہر لگا دیتے ہیں۔۸۱ہم ان میں سے اکثر میں کوئی پاسِ عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا۔۸۲پھر اُن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اُوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا ۸۳ مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا،۸۴ پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔موسیٰ نے کہا ’’اے فرعون ۸۵، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا گیا ہوں،میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے صریح دلیلِ ماموریّت لے کر آیا ہوں، لہٰذا تُو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔ ‘‘ ۸۶فرعون نے کہا ’’ اگر تُو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر۔‘‘ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔۸۷ ؏ ١۳