تفہیم القرآن جلد دوم

۷۹-یعنی ایک گرنے والی قوم کی جگہ جو دوسری قوم اُٹھتی ہے اس کے لیے اپنی پیش رو قوم کے زوال میں کافی رہنمائی موجود ہوتی ہے۔ وہ اگر عقل سے کام لے تو سمجھ سکتی ہے کہ کچھ مدّت پہلے جو لوگ اِسی جگہ دادِ عیش دے رہے تھے اور جن کی عظمت کا جھنڈا یہاں لہرا رہا تھا انہیں فکر و عمل کی کن غلطیوں نے برباد کیا، اور یہ بھی محسوس کر سکتی ہے کہ جس بالا تر اقتدار نے کر اُنہیں اُن کی غلطیوں پر پکڑا تھا اور اُن سے یہ جگہ خالی کرا لی تھی، وہ آج کہیں چلا نہیں گیا ہے، نہ اس سے کسی نے یہ مقدرت چھین لی ہے کہ اس جگہ کے موجود ہ ساکنین اگر وہی غلطیاں کرین جو سابق ساکنین کر رہے تھے تو وہ اِن سے بھی اسی طرح جگہ خالی نہ کرا سکے گا جس طرح اس نے اُن سے خالی کرائی تھی۔

۸۰-یعنی جب وہ تاریخ سے اور عبرتناک آثار کے مشاہدے سے سبق نہیں لیتے اور اپنے آپ کو خود بھلا وے میں ڈالتے ہیں تو پھر خدا کی طرف سے بھی انہیں سوچنے سمجھنے اور کسی ناصح کی بات سننے کی توفیق نہیں ملتی۔ خدا کا قانونِ فطرت یہی ہے کہ جو اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اس کی بینائی تک آفتابِ روشن کی کوئی کرن نہیں پہنچ سکتی اور جو خود نہیں سننا چاہتا اسے پھر کو ئی کچھ نہیں سنا سکتا۔

۸۱-پچھلی آیت میں جو ارشاد ہوا تھا کہ ’’ہم ان کے دلوں پر مُہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سنتے ‘‘، اس کی تشریح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرما دی ہے۔ اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دلوں پر مہر لگانے سے مراد ذہنِ انسانی کا اُس نفسیاتی قانون کی زد میں آ جانا ہے جس کی رُو سے ایک دفعہ جاہلی تعصبات یا نفسانی اغراض کی بنا پر حق سے مُنہ موڑ لینے کے بعد پھر انسان اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے اُلجھاؤ میں اُلجھتا ہی چلا جاتا ہے اور کسی دلیل، کسی مشاہدے اور کسی تجربے سے اس کے دل کے دروازے قبولِ حق کے لیے نہیں کھُلتے۔