تفہیم القرآن جلد دوم

ا س مقام پر ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی مذمت کی ہے وہ عرب کے مشرکین تھے اور ان کا تصور یہ تھا کہ وہ صحیح و سالم اولاد پیدا ہونے کے لیے تو خدا ہی سے مانگتے تھے مگر جب بچہ پیدا ہو جاتا تھا تو اللہ کے اس عطیہ میں دوسروں کو شکریے کا حصہ دار  ٹھیرا لیتے تھے۔ بلا شبہہ یہ حالت بھی نہایت بُری تھی۔ لیکن اب جو شرک ہم توحید کے مدعیوں میں پا رہے ہیں وہ اس سے بھی بدتر ہے۔ یہ ظالم تو اولاد بھی غیروں ہی سے مانگتے ہیں۔ حمل کے زمانے میں مَنَّتیں بھی غیروں کے نام ہی کی مانتے ہیں اور بچہ پیدا ہونے کے بعد نیاز بھی انہی کے آستانوں پر چڑھاتے ہیں۔ اس پر بھی زمانۂ جاہلیت کے عرب مشرک تھے اور یہ موحّد ہیں، اُن کے لیے جہنم وا جب تھی اور ان کے لیے نجات کی گارنٹی ہے، اُن کی گمراہیوں پر تنقید کی زبانیں تیز ہیں مگر اِن کی گمراہیوں پر کوئی تنقید کر بیٹھے تو مذہبی درباروں میں بے چینی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اسی حالت کا ماتم حالی مرحوم نے اپنی مسدس میں کیا ہے :۔

کرے غیر گر بت کی پوجا تو کا فر

جو ٹھیرائے بیٹا خدا کا تو کافر

جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر –

کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر

مگر مومنوں پر کشاہ ہیں راہیں –

پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں –

اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں

مزاروں پہ جا جا کہ نذریں چڑھائیں

شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں

نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے –

نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے