تفہیم القرآن جلد دوم

۱۴۷-یعنی ان مشرکین کے معبودانِ باطل کا حال یہ ہے کہ سیدھی راہ دکھانا اور اپنے پر ستاروں کی رہنمائی کرنا تو درکنار، وہ بیچارے تو کسی رہنما کی پیروی کرنے کے قابل بھی نہیں، حتیٰ کہ کسی پکارنے والے کی پکار کا جواب تک نہیں دے سکتے۔

۱۴۸-یہاں ایک بات صاف طور پر سمجھ لینی چاہیے۔ مشرکانہ مذاہب میں تین چیزیں الگ الگ پائی جاتی ہیں۔ ایک تو وہ اصنام، تصاویر یا علامات جو مرجع پرستش (Objects of worship) ہوتی ہیں۔ دوسرے وہ اشخاص یا ارواح یا معانی جو دراصل معبود قرار دیے جاتے ہیں اور جن کی نمائندگی اصنام اور تصاویر وغیرہ کی شکل میں کی جاتی ہے۔ تیسرے وہ اعتقادات جو ان مشرکانہ عبادات و اعمال کی تہ میں کار فرما ہوتے ہیں۔ قرآن مختلف طریقوں سے ان تینوں چیزوں پر ضرب لگا تا ہے۔ اس مقام پر اُس کی تنقید کا رُخ پہلی چیز کی طرف ہے یعنی وہ بت محلِ اعراض ہیں جن کے سامنے مشرکین اپنے مراسمِ عبادت ادا کرتے اور اپنی عرضیاں اور نیازیں پیش کرتے تھے۔

۱۴۹-یہ جواب ہے مشرکین کی اُن دھمکیوں کا جو وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر تم ہمارے اِن معبودوں کی مخالفت کرنے سے باز نہ آئے اور ان کی طرف سے لوگوں کے عقیدے اسی طرح خراب کرتے رہے تو تم پر ان کا غضب ٹوٹ پڑے گا اور وہ تمہیں اُلٹ کر رکھ دیں گے۔

۱۵۰-ان آیات میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دعوت تبلیغ اور ہدایت و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات بتائے گئے ہیں اور مقصود صرف حضور ہی کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ حضور کے ذریعہ سے اُن سب لوگوں کو بھی حکمت سکھانا ہے جو حضور کے قائم مقام بن کر دنیا کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے اُٹھیں۔ ان نکات کو سلسلہ وار دیکھنا چاہیے :۔

(۱) داعی حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق، عامۃ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقا کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی سختیوں کو بھی۔ اسے شدید سے شدید اشتعال انگیز مواقع پر بھی اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھنا چاہیے، نہایت ناگوار باتوں کو بھی عالی ظرفی کے ساتھ ٹال دینا چاہیے، مخالفوں کی طرف سے کیسی ہی سخت کلامی بہتان تراشی، ایذا رسانی اور شریرانہ مزاحمت کا اظہار ہو، اُس کو درگزر ہی سے کام لینا چاہیے۔ سخت گیری، درشت خوئی، تلخ گفتاری اور منتقمانہ اشتعالِ طبع اس کام کے لیے زہر کا حکم رکھتا ہے اور اس سے کام بگڑتا ہے بنتا نہیں ہے۔ اسی چیز کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یوں بیان فرمایا ہے کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ ’’ غضب اور رضا، دونوں حالتوں میں انصاف کی بات کہوں، جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں، جو مجھے میرے حق سے محروم کرے میں اسے اس کا حق دوں، جو میرے ساتھ ظلم کرے میں اس کو معاف کر دوں‘‘۔ اور اسی چیز کی ہدایت آپ ان لوگوں کو کرتے تھے جنہیں آپ دین کے کام پر اپنی طرف سے بھیجتے تھے کہ بشروا ولا تنفرو او یسروا ولاتعسروا، یعنی ’’جہاں تم جاؤ وہاں تمہاری آمد لوگوں کے لیے مژدہ جانفزا ہو نہ کہ باعثِ نفرت، اور لوگوں کے لیے تم سہولت کے موجب بنو نہ کہ تنگی و سختی کے۔ ‘‘ اور اسی چیز کی تعریف اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حق میں فرمائی ہے کہ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْ ا مِنْ حَوْ لکَ۔ یعنی ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے نرم ہو ورنہ اگر تم درشت خو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب لوگ تمہارے گردو پیش سے چَھٹ جاتے ‘‘۔ (آل عمران، ۱۵۹)