جبیر بن مطعم بن عدی نوفلی رضی اللہ عنہ قریش کے معزز سرداروں میں سے تھے اور آپ کا شمار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ آپ کا تعلق قریش کے ایک بااثر خاندان بنو نوفل سے تھا اور آپ اپنے علمِ انساب (خاندانی شجرہ نسب)، دانشمندی اور تدبر کے لیے مشہور تھے۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ابتدا میں اسلام کے مخالفین میں سے تھے، لیکن بعد میں آپ نے اسلام قبول کیا اور ایک مخلص مسلمان کے طور پر اپنی زندگی گزاری۔
اسلام سے پہلے کا مقام
اسلام قبول کرنے سے قبل، جبیر بن مطعم مکہ کے ان چند افراد میں سے تھے جو قریش میں اپنے علم و فضل، خصوصاً انساب کے علم میں سب سے ممتاز سمجھے جاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آپ کے علمِ انساب پر اعتماد تھا اور بعض مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبیر بن مطعم سے قریش کے نسب کے بارے میں استفسار فرمایا۔
آپ ان سرداروں میں سے تھے جنہوں نے حصارِ شعب ابی طالب (محاصرہ شعب ابی طالب) کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جب قریش نے بنو ہاشم کا سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ آپ کی شخصیت میں انصاف پسندی اور عہد کی پاسداری کا عنصر پایا جاتا تھا۔
اسلام قبول کرنا
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے 7 ہجری میں فتح خیبر کے بعد اسلام قبول کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسلام مکہ میں تیزی سے پھیل رہا تھا اور بہت سے قریشی سردار ایمان لا رہے تھے۔ جبیر بن مطعم نے خود بیان کیا ہے کہ ان کے دل میں اسلام کی حقانیت اس وقت راسخ ہوئی جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورۃ الطور کی تلاوت کرتے سنا۔ آپ صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کی تلاوت اور قرآن کی فصاحت و بلاغت نے ان کے دل پر گہرا اثر ڈالا، اور یہی واقعہ ان کے اسلام قبول کرنے کا سبب بنا۔
ایک روایت کے مطابق، آپ غزوہ بدر کے قیدیوں کے فدیہ کے سلسلے میں مدینہ آئے تھے اور اسی دوران آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آنے کا موقع ملا۔
نمایاں کردار اور فضائل
اسلام قبول کرنے کے بعد، جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ایک مخلص اور فداکار صحابی بن کر ابھرے۔ آپ کے چند اہم فضائل اور کارنامے درج ذیل ہیں:
علمِ انساب کے ماہر: آپ اپنے قریش کے شجرہ نسب کے گہرے علم کی وجہ سے مشہور تھے، جس کا فائدہ بعد میں اسلامی ریاست کو بھی ہوا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں، جن میں بعض اہم دعائیں اور احکام شامل ہیں۔ آپ سے روایت کردہ احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت حدیث کی کئی کتب میں موجود ہیں۔
عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے قرابت: آپ کا تعلق بنو نوفل سے تھا، جو خلفائے راشدین میں سے امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قریب ترین خاندان میں سے تھا (عثمان بن عفان کا تعلق بنو امیہ سے تھا، جو بنو عبد شمس کی شاخ تھی، اور بنو نوفل بنو عبد مناف کی ایک اور شاخ تھی، لہٰذا یہ ایک ہی بڑے خاندان سے تعلق رکھتے تھے)۔
احادیث میں ذکر: جبیر بن مطعم کی روایات میں ایک مشہور حدیث یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے اللہ کفر کو مٹائے گا، میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں کہ میرے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے، اور میں عاقب (آخری) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔” یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد اسماء مبارکہ کا ذکر کرتی ہے۔
وفات
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں 58 ہجری (678 عیسوی) میں وفات پائی۔ آپ نے ایک طویل عمر پائی اور اسلام کی ابتدائی تاریخ کے اہم واقعات کے گواہ رہے۔
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کس طرح ایک شخص، جو ابتدا میں مخالف تھا، بعد میں اسلام کی حقانیت کو پہچان کر ایک عظیم مبلغ اور دین کا خادم بن سکتا ہے۔ ان کا علم و فضل، خصوصاً علم انساب، بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام نے ہر قسم کے علم کی قدر کی اور اسے معاشرتی فلاح کے لیے استعمال کیا۔
