جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، جو اپنے لقب جعفر الطیار (اُڑنے والا جعفر) سے مشہور ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سگے بھائی تھے۔ آپ کی شخصیت ایمانی پختگی، ایثار، فصاحت اور بہادری کا حسین امتزاج تھی۔ آپ نے اسلام کے ابتدائی اور انتہائی مشکل دور میں ایک قائدانہ کردار ادا کیا اور ہجرت حبشہ کے مہاجرین کے رہنما بنے۔
ابتدائی زندگی اور اسلام قبول کرنا
جعفر رضی اللہ عنہ نبوت کے ابتدائی سالوں میں ہی اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں سے نہیں ہیں، لیکن آپ کا اسلام قبول کرنا ابتدائی صحابہ میں شمار ہوتا ہے۔ آپ کے والد ابو طالب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور مکہ کے سرداروں میں سے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرح، جعفر رضی اللہ عنہ کی پرورش بھی کچھ عرصے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر سایہ ہوئی جب قحط سالی کی وجہ سے ابو طالب کے مالی حالات خراب ہو گئے تھے۔
ہجرت حبشہ اور قیادت
جب مکہ میں مسلمانوں پر کفارِ قریش کے مظالم انتہا کو پہنچ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ یہ ہجرت دو حصوں میں ہوئی، اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے دوسری ہجرت کے دوران مہاجرین کی قیادت کی۔ حبشہ کے عادل بادشاہ، نجاشی، کی پناہ میں مسلمان پرامن طریقے سے رہنے لگے۔
جب قریش نے دو افراد (عمر بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ) کو تحائف کے ساتھ نجاشی کے دربار میں بھیجا تاکہ مہاجرین کو واپس لایا جا سکے، تو جعفر رضی اللہ عنہ نے کمال فصاحت و بلاغت سے اسلام کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے نجاشی کے سامنے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، بت پرستی سے دوری، اخلاقی اقدار، نماز، روزہ اور پاکیزگی پر روشنی ڈالی۔ جب نجاشی نے یسوع مسیح کے بارے میں پوچھا تو جعفر رضی اللہ عنہ نے قرآن کی آیات تلاوت کیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور ان کے معجزات کا ذکر تھا۔ آپ کی اس تقریر کا نجاشی پر گہرا اثر ہوا اور انہوں نے مہاجرین کو پناہ دینا جاری رکھا اور قریش کے مطالبے کو ٹھکرا دیا۔ یہ جعفر رضی اللہ عنہ کی ایمانی پختگی اور دانش مندی کا عظیم ثبوت تھا۔
مدینہ واپسی اور غزوہ خیبر
حبشہ میں تقریباً 12-13 سال گزارنے کے بعد، جعفر رضی اللہ عنہ اور دیگر مہاجرین غزوہ خیبر کے موقع پر 7 ہجری میں مدینہ منورہ واپس آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کرنے کے بعد بہت خوش تھے اور جب آپ نے جعفر کو دیکھا تو فرمایا: “مجھے معلوم نہیں کہ آج کس بات پر زیادہ خوشی ہے، خیبر کی فتح پر یا جعفر کے آنے پر۔” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر رضی اللہ عنہ کو گلے لگایا۔
غزوہ موتہ اور شہادت
مدینہ واپسی کے ایک سال بعد، 8 ہجری میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رومن سلطنت کے علاقوں میں تبلیغ کے لیے ایک لشکر روانہ کیا جس کی قیادت پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو سونپی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب امیر ہوں گے، اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں گے۔
غزوہ موتہ (موجودہ اردن میں) میں رومیوں کی بڑی فوج سے مقابلہ ہوا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، جعفر رضی اللہ عنہ نے لشکر کی کمان سنبھالی۔ آپ نے انتہائی بہادری سے لڑائی لڑی اور علم (جھنڈا) کو بلند رکھا۔ روایت ہے کہ جب آپ کے دونوں بازو کٹ گئے تو آپ نے جھنڈے کو اپنے جسم سے تھامے رکھا یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ آپ کی شہادت اس قدر شدید تھی کہ آپ کے جسم پر 90 سے زائد زخم تھے۔
‘الطيار’ کا لقب اور فضیلت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد فرمایا: “اللہ نے جعفر کو اس کے دونوں کٹے ہوئے بازوؤں کے بدلے جنت میں دو پر عطا فرمائے ہیں جن سے وہ جہاں چاہیں اُڑتے پھرتے ہیں۔” اسی وجہ سے آپ کو جعفر الطیار (The Flyer) کہا جانے لگا۔
جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت اسلام کے لیے ایک عظیم قربانی تھی اور ان کا نام اسلام کے بہادر شہداء میں ہمیشہ روشن رہے گا۔ آپ کا ایثار، فصاحت اور اسلام کے لیے جدوجہد آج بھی مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔
